menu close menu

بیوی پر ظلم کرنا اور تہمتیں لگانا – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ

Oppressing the wife and accusing her – Shaykh Abdul Azeez Abdullaah Aal-Shaykh

بیوی پر ظلم کرنا اور تہمتیں لگانا   

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ

(مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الخلافات الزوجية

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: ہم آپ فضیلۃ الشیخ سے چاہتے ہیں کہ آپ شوہر کی جانب سے عورت پر کیے جانے والے ظلم اور بہت سی باتو ں کی اس پر تہمت لگاتے رہنے  کے بارے میں کلام فرمائيں؟

جواب: میرے بھائیو! اللہ عزوجل فرماتے ہیں:

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ﴾ (الحجرات: 6)

(اے مومنو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو نا پڑے)

میرے بھائیو! ازدواجی تعلقات اس وقت تک سیدھے نہیں ہوسکتے جب تک زوجین کا آپس میں تعاون نہ ہو، شوہر اور بیوی اپنی مشکلات کے بارے میں باہمی تعاون کریں اور افہام وتفہیم سے کام لیں، اور آپس میں پیدا ہونے والی ہر مشکل کا حل نرمی اور شفقت سے کریں۔

مگر آپس میں تنازع کرتے رہنا اور ایک دوسرے پر کوتاہی اور برائی کی الزام تراشی کرتے رہنا تو یہ غلط روش ہے۔بعض بیویاں (اللہ تعالی انہيں ہدایت دے) ہمیشہ شوہر پر تجسس کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں اور ان کے موبائل چیک کرتی ہیں،  کس سے بات کی، کس نے ان کو کال کی، کس سے اس نے بات کی، کون اس کے پاس آیا اور وہ کس کے پاس گیا وغیرہ؟ ایسی خاتون  کا شوہر کے ساتھ یہ نفسیاتی مسئلہ ہوتا ہے  تو وہ یہ کرتی رہتی ہیں، کرتی رہتی ہیں، کرتی رہتی ہیں یہاں تک کہ پھر اس پر ایسی تہمت تک لگا بیٹھتی ہے جس سے وہ بری ہوتا ہے۔

بلکل اسی طرح سے کسی شوہر کے پاس برے شکوک اور بدگمانیاں ہوتی ہیں تو وہ اپنے بیوی پر ایسی چیز کی تہمت لگابیٹھتا ہے جو اس نے کی ہی نہيں۔ اور کوشش کرتا ہے کہ اس کا موبائل چیک کرے کہ کسی نے اس سے رابطہ کیا ہے یا نہیں کیا؟ پس اگر ایسے شکوک زوجین میں پیدا ہوجائيں تو گھر ٹوٹ جاتے ہیں!

لازم ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے پر مکمل اعتماد اور حسن ظن ہوجب تک کوئی یقینی  بات اسے توڑنے کا موجب نہ بنے۔ لہذا جب تک باتيں صرف وہم وگمان اور نرے دعوؤں تک محدود ہوں تو ان کا کوئی اعتبار نہیں جب تک حقیقتاً کوئی چیز واقع نہ ہوئی ہو، اس صورت میں تو بات دوسری ہے۔

چناچہ زوجین کو چاہیے کہ باہمی تعاون کریں اور آپس میں خیرخواہی چاہیں، اگر مرد کو بیوی میں کوئی کوتاہی نظر آتی ہے تو وہ اسے نصیحت کرے، اور اسے اللہ تعالی یاد دلائے، اور اگر شوہر کی طرف سے کوتاہی ہو تو بیوی اسے اللہ تعالی یاد دلائے اور اس پر صبر کرے، اس کے راز کو گھر سے باہر افشاء نہ کرے، بلکہ یہ بات بس اس کے اور شوہر کے درمیان رہے گھر سے باہر لوگوں کے کانوں تک نہ پہنچنے۔

اگر اس قسم کے شکوک زوجین کے مابین گھر کرجائيں تو گھرانے ٹوٹ جایا کرتے ہيں۔ لازم ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے پر اعتماد اور حسن ظن ہو جب تک کوئی یقینی بات اسے توڑنے کا موجب نہ ہو۔ البتہ جب تک بات بس دعوؤں اور بدگمانیوں کی ہو تو ان کا کوئی اعتبار نہیں جب تک حقیقت میں کچھ نہ ہوا ہو، اس صورت میں تو وہ الگ موضوع ہوگا۔

بہرحال زوجین کو چاہیے کہ باہمی تعاون اور خیرخواہی کریں، اگر مرد اپنی بیوی میں کوئی کوتاہی دیکھتا ہے تو اسے وعظ ونصیحت کرے اور اللہ تعالی کی یاد دلائے، اور اگر بیوی اپنے شوہر میں نقص دیکھتی ہے تو اسے یاددہانی کروائے اور اس پر صبر کرے، اس کے راز کی حفاظت کرے، اسے گھر سے باہر نہ نکلنے دے، تاکہ یہ الجھن یا مشکلات ان دونوں کے درمیان رہے گھر سے باہر لوگوں کے کانوں تک نہ پہنچنے۔

April 24, 2017 | آداب، اخلاق وعادات, الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ, خواتین, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com