menu close menu

بیوی سے پیاری باتيں کرنا اور اس کے لیے اپنے حلیے کو سنوارنا – شیخ محمد علی فرکوس

Speaking kindly to the wife and having a concern with one's appearance – Shaykh Muhammad Alee Ferkus

بیوی سے پیاری باتيں کرنا اور اس کے لیے اپنے حلیے کو سنوارنا

فضیلۃ الشیخ ابی عبدالمعز محمد علی فرکوسحفظہ اللہ

(استاذ  کلیۃ العلوم الاسلامیۃ، جامعہ الجزائر)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: المُعِينُ في بَيَانِ حُقُوقِ الزَّوْجَيْن۔

پیشکش: توحید خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بیوی سے پیاری باتیں کرنا  اور اس کے لیے اپنا حلیہ سنوارنے کا خیال رکھنا۔ کیونکہ اسے بھی اپنے شوہر میں وہ بات پسند ہوتی ہے جو شوہر کو اپنی بیوی میں پسند ہوتی ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی ازواج یعنی امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے ساتھ حال ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہيں:

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اخلاق میں سے یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر والیوں کے ساتھ خوبصورت معاشرت اپناتے، اور ہمیشہ خوش مزاج رہتے، اپنی اہلیہ کے ساتھ کھیلتےاور ان پر نرمی وشفقت فرماتے، دل کھول کر ان پر خرچ کرتے ،اور اپنے عورتوں کو ہنساتے، یہاں تک کہ آپ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ تک لگاتے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان سے محبت کے اظہار کا طریقہ تھا‘‘([1])۔

اس میں کوئی شک نہيں کہ اپنی بیوی کو اپنے قول یا فعل سے تکلیف دینا، یاکثرت سے منہ بسورے رکھنا اور ملتے وقت تیوری چڑھائے رکھنا،  اور اس سے منہ پھیر کے دوسروں میں لگے رہنا حسن معاشرت کے خلاف ہے۔ امام القرطبی  رحمہ اللہ اس آیت کے معنی میں فرماتے ہیں کہ:

﴿وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ﴾ (النساء: 19)

(اور ان کے ساتھ بہترین طریقےسے گزر بسر کرو)

’’یعنی جو اللہ تعالی نے حسن معاشرت کا حکم دیا ہے ۔۔۔اور وہ اس طرح سے اس کا حق ادا کرنا ہے کہ  مہر ہو یا نان نفقہ وہ دیا جائے، اور بلاقصور اس کے سامنے پیشانی پر بل لاکر برا سا منہ نہ بنایا جائے، خوش گفتاری اپنائے ترش روی او رسنگدلی اور کسی دوسری کی طرف میلان کو ظاہر نہ کرے۔۔۔پس اللہ تعالی نے عورتوں کے ساتھ حسن صحبت کا حکم دیا ہے جب ان سے عقد نکاح ہوجائے تاکہ ان کے مابین الفت وموافقت قائم رہے اور ان کا ساتھ اپنے کمال کے ساتھ قائم ودائم رہے، کیونکہ یہ بلاشبہ نفس کے اطمینان اور زندگی کے لیے سکون کا ذریعہ ہے‘‘([2])۔

اور حسن معاشرت کے خلاف یہ بات بھی ہےکہ انسان اپنے حلیے اور بننے سنورنے کا خیال نہ رکھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

’’إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ أَتَزَيَّنَ لِلْمَرْأَةِ كَمَا أُحِبُّ أَنْ تَزَّيَّنَ لِي؛ لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: ﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ﴾  (البقرة: 228)‘‘([3])

(بے شک میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی عورت کے لیے زینت اختیار کروں جیسے میں یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے بنے سنورے،  کیونکہ بلاشبہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’اور معروف کے مطابق ان عورتوں کے لیے اسی طرح حق ہے جیسے ان کے اوپر حق ہے ‘‘)۔

’’چناچہ مردوں کی زینت ان کے احوال اور عمر کے اعتبار سے مختلف ہوا کرتی ہے کہ وہ اس بارے میں اپنی لیاقت وفن کو استعمال کریں تو ایسا لباس پہنیں جو ان کے مناسب حال ہو، منہ صاف رکھیں اور دانتوں کے بیچ جو کھانے کے ذرات وغیرہ رہ جاتے ہیں انہيں مسواک وغیرہ سے صاف رکھیں، اور جو چیزیں انسان کے جسم پر لگ جاتی ہيں جیسے میل کچیل اسے دور کریں، اسی طرح سے غیرضروری بالوں کی صفائی، ناخن تراشنا اور بڑی عمر والوں کے لیے خضاب لگانا اور انگوٹھی پہننا وغیرہ جیسی باتيں جو اس کے حقوق کی ادائیگی کرتی ہوں، تاکہ وہ اپنی بیوی کے پاس ایسی زیب وزینت میں رہے جو اسے بھائے اور اسے دوسرے مردوں میں دلچسپی لینے سے محفوظ رکھے‘‘([4])۔

 


[1] «تفسير ابن كثير» (١/ ٤٦٦).

[2] «تفسير القرطبي» (٥/ ٩٧)، بتصرُّف.

[3] أخرجه البيهقي في «السنن الكبرى» (١٤٧٢٨)، وابن أبي شيبة في «مصنَّفه» (١٩٢٦٣).

[4] انظر: «تفسير القرطبي» (٣/ ١٢٤).

February 15, 2018 | آداب، اخلاق وعادات, الشیخ محمد علی فرکوس, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com