menu close menu

بینکوں کے ساتھ معاملات کرنے کا شرعی حکم – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

Ruling regarding dealing with banks – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

بینکوں کے ساتھ معاملات کرنے کا شرعی حکم   

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز  رحمہ اللہ   المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: حكم التعامل مع البنوك۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال:ہم اسلامی بینکوں کا سنتے ہیں، کیا یہ موجودہ بینکوں کی ہی طرح ہیں، یا وہ کسی چیز میں ان سے مختلف ہیں، اور ایسے بینکوں کے ساتھ معاملات کرنے کا  کیا حکم ہے؟

جواب: اسلامی بینک سودی معاملات سے بچتے ہيں۔ لہذا ان کے ساتھ تعاون کرنا سودی بینکوں کے ساتھ تعاون کرنے کی طرح نہیں، پس اسلامی بینکوں کے ساتھ تعاون کرنے میں کوئی حرج نہيں، جبکہ سودی بینکوں کے ساتھ ان معاملات میں تعاون کرنے میں حرج ہے جن میں سود ہو، البتہ ایسے معاملات جن میں سود نہ ہو جیسے حوالگی و رقوم کی منتقلی بغیر سود کے اور اس جیسے دیگر معاملات تو اس میں کوئی مضائقہ نہيں۔ لیکن سودیہ معاملات تو بالکل جائز نہيں کسی بھی انسان کے ساتھ خواہ سودی بینک ہوں یا اس کے علاوہ کسی کے ساتھ، بہرحال یہ جائز نہيں۔

اس کی مثال جیسے فکسڈ ڈپازٹ کیا جاتا ہےاور اس پر پرافٹ کے نام سے 5 فیصد یا 10 فیصد منافع دیتے ہیں، یا قرض لیا جاتا ہے 5 فیصد یا 10 فیصدمنافع (سود) لوٹانے کے طور   پر یا اس سے کم وبیش جتنا بھی یہ سب سود ہے۔ چاہے یہ سودی بینک کے ساتھ ہو یا اسلامی بینک یا کسی تاجر کے ساتھ یا اس کے علاوہ کسی کے بھی ساتھ۔

پس وہ اسلامی بینک جو اللہ کی شریعت پر چلتے ہیں ان کے ساتھ تعاون کرنا اچھی بات ہے، اس صورت میں ان کی مدد ہوگی کہ وہ اس راہ پر چلتے رہیں، جبکہ سودی بینکوں کے ساتھ تعاون جائز بات نہيں ہے۔ یہی معاملہ بینک کے علاوہ لوگوں کا بھی ہے جیسے تاجرو دیگر افراد، کبھی بھی کسی کے بھی ساتھ سودی معاملہ کرنا جائز نہیں۔

لیکن جہاں تک معاملہ ہے اسلامی بینکوں کا تو ضروری ہے کہ ہم ان کی حوصلہ افزائی کریں او ران پر توجہ دیں۔ اور جو اسے چلاتے ہيں انہيں بھی چاہیے کہ ہر اس چیز سے بچ کر رہيں جس میں سود ہو اور اس بات کو یقینی بنائیں جس کی طرف وہ منسوب ہوتے ہيں کہ ہم اسلامی بینک ہيں، اور اس بارے میں لاپرواہی وکوتاہی سے پرہیز کریں۔

سائل: سماحۃ الشیخ ! لوگ یہ بات عام کرتے ہیں کہ یہ (اسلامی) بینک بھی ان سودی بینکوں کے ساتھ معاملات کرنے سے بے نیاز نہیں؟

الشیخ: جہاں تک ہم مطلع ہیں اور جو کچھ ان سے ظاہر  ہوا ہے کہ وہ اس تعلق سے حرج محسوس کرتے ہیں اور سود سے بچنے کی بھرپور کوشش کرتے ہيں، لیکن جو ہم پر مخفی ہے تو اللہ تعالی ہی اسے جاننے والا ہے۔  مگر یہ بات بھی ہے کہ اسلامی بینکوں کے دشمنان و مخالفین موجود ہیں جن کی ان کے خلاف باتوں کی تصدیق نہ کی جائے۔ چناچہ ضروری ہے کہ ان (اسلامی بینکوں) کی حوصلہ افزائی  کریں او ران پر توجہ دیں ۔ اور جو اسے چلاتے ہیں انہيں بھی چاہیے کہ ہر اس چیز سے بچیں جس میں شبہہ ہو تاکہ ان کے مخالفین کو کوئی موقع ہی نہ ملے ان کے معاملات پر طعن کرنے کا۔

بہرحال جہاں تک بات ہے دیگر بینکوں کے ساتھ سودی معاملات سے ہٹ کر معاملات کرنا جیسے حوالگی وغیرہ؟ تو اس میں کوئی حرج نہیں، اس میں کوئی مضائقہ نہيں، الحمدللہ۔

سائل: سماحۃ الشیخ آپ نے ذکر فرمایا بینکوں سے قرضے لینے کا اور اس پر ملنے والے منافع کو لینے کا، پس کیا اس میں فرق ہوگا اگر وہ قرض سرمایہ کاری کے لیے لیا جائے یا وہ قرض ذاتی استعمال کے لیے لیا جائے؟

الشیخ: اس میں کوئی فرق نہيں۔ اگر سودیہ طریقے سے سرمایہ کاری یا ذاتی استعمال کے لیے قرض لیا ہے تو وہ سود ہی کہلائے گا۔ برابر ہے کہ عنقریب یہ قرض کسی دوسرے  کاموں میں بطور سرمایہ کاری لگے یا پھر اپنی ضروریات کے لیے ہو سب کا سب سود ہے، اور سب کا سب ممنوع ہے۔

November 23, 2017 | آداب، اخلاق وعادات, الشيخ عبد العزيز بن باز, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com