menu close menu

بنا وضوء مصحف میں سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم؟ – شیخ عبید بن عبداللہ الجابری

Is it allowed to recite from the Mushaf without Wudu? – Shaykh 'Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

بنا وضوء مصحف میں سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم؟   

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ میراث الانبیاء

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: جزاكم الله خير شيخنا سوال نمبر 21 تیونس سے سائل کہتا ہے : مصحف میں سے قرآن کریم بغیر وضوء کے تلاوت کرنے کے بارے میں صحیح قول کیا ہے؟

جواب: جو بات میرے نزدیک راجح ہے کہ (قرآن مجید کو چھونے یا تلاوت کے لیے )وضوء واجب نہیں۔ البتہ اس کا امر (حکم) ندب (استحباب) کے لیے ہے۔ لیکن اس امر کو میں بطور وجوب لینے کا قائل نہیں۔ کیونکہ مسلمان کا بدن (اصلا ً)طاہر (پاک) ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجَسُ‘‘

(بے شک مومن نجس نہیں ہوتا)۔

دوسری حدیث میں فرمایا:

’’إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ‘‘

(بے شک مسلمان نجس نہیں ہوتا)۔

یہ بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ  کی کسی گلی میں جارہے تھے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نےفرمایا: ’’فَانْسَلَلْتُ‘‘ اور ایک روایت میں ہے ’’فَانْخَنَسْتُ فَاغْتَسَلْتُ‘‘ یعنی میں چپکے سے سرک گیا اور جلدی غسل  کرکے واپس لوٹا، فرمایا:

’’لقيتُ رسول الله – صلَّى الله عليهِ وسلَّم – وأنا جُنُب في بعضِ طرق المدينة ، فلمَّا جلس قال: انخنست منه فاغتسلت منه فجئت، فقال: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ جُنُبًا فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ وَأَنَا عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ‘‘([1])

(میرا مدینہ کی کسی گلی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سامنا ہوا جبکہ میں جنابت کی حالت میں تھا ۔ جب وہ بیٹھے تو میں چپکے سے وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا  اور غسل جنابت کرکے واپس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کہاں تھے اے ابوہریرہ !؟ میں نے کہا کہ: میں جنابت کی حالت میں تھا تو میں نے مکروہ (ناگوار) جاناکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھو حالانکہ میں غیرطہارت کی حالت میں ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! بے شک مسلمان نجس (ناپاک وپلید) نہیں ہوتا)۔

 

چناچہ جنابت یعنی خواہ حدث اکبر ہو جیسے دونوں جنسوں (مرد وزن) کے درمیان مشترکہ جنابت جو ہوتی ہے(جیسے جماع)، یا پھر صرف عورت کے تعلق سے حیض ونفاس ہو، یا پھر حدث اصغر (بے وضوء ہونا) ہو۔ میرے نزدیک جو صواب اور راجح بات ہے اور اسی پر باکثرت محققین ہیں الحمدللہ کہ مصحف میں سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے کے لیے وضوء کی شرط نہیں، بغیر طہارت کے بھی مصحف قرآن کو چھونا اور اس میں سے قرأت کرنا جائز ہے۔

کراہیت کا قول اصل میں دلائل کو جمع کرنے کی صورت میں ہے، یہ بات صحیح ہے اور قابل نظر ہے، کہ مصحف قرآنی کو بغیر طہارت کے چھونے کو محض مکروہ کہا جائے (یعنی طہارت ہونا اچھی بات ہے لیکن شرط نہیں بنا طہارت بھی چھوا اور پڑھا جاسکتا ہے)، دلائل کو جمع کرنے کی یہ صورت بنتی ہے۔

 

 


[1] صحیح بخاری 283، صحیح مسلم 374۔

 

June 8, 2016 | الشيخ عبيد الجابري, قرآن وتفسیر, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com