menu close menu

بلیک فرائیڈے کے نام سے ہونے والی رعایتوں سے فائدہ اٹھانے کا حکم – مختلف علماء کرام

Ruling regarding availing the black Friday's sale – Various 'Ulamaa

بلیک فرائیڈے کے نام سے ہونے والی رعایتوں سے فائدہ اٹھانے کا حکم   

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: احسن اللہ الیکم یہ چھٹا سوال ہے ، سائل کہتا ہے ہمارے یہاں امریکہ میں ایک دن کو بلیک فرائیڈے کہا جاتا ہے (اللہ المستعان) اور یہ جمعہ کافروں کے ایک بہت بڑے تہوار کے بعد آتا ہے  جسے thanksgiving  کہا جاتا ہے، مختصر تاریخ شیخ اس کی یہ ہے کہ جب یورپ سے آنے والے امریکہ میں نئے آئے تھے تو ان کا استقبال جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہيں ریڈ انڈین لوگوں نے کیا، جو کہ امریکہ کہ اصل باسی تھے۔ان کا استقبال کیا اور معاونت کی وغیرہ، تو انہوں نے یہ تہوار منانا شروع کردیا، لیکن جو جمعہ اس کے بعد آتا ہے اسے یہ لوگ بلیک فرائیڈے کہتے ہيں (نسأل الله العافية)  لہذا اس دن بڑے بڑے بازار و مارکیٹ اپنی اشیاء نہایت ہی سستے داموں پیش کرتی ہیں، اور مارکیٹ کے دروازے بہت سویرے کھولتے ہيں یہاں تک کہ فجر سے بھی پہلے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم مسلمانوں کے لیے ان رعایتوں (ڈسکاؤنٹس) کا فائدہ اٹھانا جائز ہے؟ یا شیخ، یہ بات بھی علم میں رہے کہ اس دن بہت ہی زیادہ رش ہوتا ہے، جس کی وجہ سے شدید دھکم پیل ہوتی ہے ،  اور لوگ اپنے آپ کو خطرے تک کی نظر کردیتے ہیں؟

جواب از محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ:

اس میں کوئی مانع نہیں کہ مسلمان ان بازاروں سے استفادہ کریں جنہيں کفار لگاتے اور منعقد کرتے ہیں، اور ان رعایتوں سے فائدہ اٹھائيں جو کفار دیتے ہيں، اس شرط کے ساتھ کہ یہ بازار یا رعایتیں ان کے کسی دینی شعار سے مربوط نہ ہوں، یعنی یہ سرگرمیاں ان کے مظاہر عبادت، مظاہر دین  یا دینی تہوار سے مربوط نہ ہوں۔ کیونکہ ایک مسلمان کے لیے یقینا ًجائز نہيں کہ وہ کافروں کے دینی تہوار میں شرکت کرے۔

البتہ وہ عادی امور ہیں جو وہ کرتے ہیں اگر ایک مسلمان ان سے فائدہ اٹھاتا ہے بنا ان میں پائے جانے والے خلاف شرع امور یا ان کے خصائص میں مشارکت کیے، تو ا ن شاء اللہ اس صورت میں کوئی حرج نہیں، اور اس میں کوئی مانع نہيں۔

کیونکہ عرب جاہلیت میں مخصوص بازار لگایا کرتے تھے  سوق ذي المجان، سوق عكاظ وغیرہ، اور لوگ ان بازاروں سے استفادہ کیا کرتے تھے، لیکن یہ ثابت نہيں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  نے انہيں ان بازاروں سے منع کیا ہوجسے کفار منعقد کرتے تھے، جب تک وہ ان کے دینی شعائر سے مربوط نہ ہوں۔

پھر جو بات بھائی نے ذکر کی اس سوال میں کہ اس قسم کے اجتماع میں یا ان بازاروں میں جانے سے لازماً شدید رش اور دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور خدشہ ہوتا ہے اس شخص پر جو اس میں شریک ہو اور داخل ہو ان بازاروں میں کہ وہ اپنے آپ کو خطرے کی نظر کرتا ہے۔ میں یہ کہتا ہوں: اگر جو بات سوال میں ذکر ہوئی اس کے تعلق سے غالب ظن متحقق ہو  کہ وہ اگر داخل ہوگا تو خدشہ ہے خطرے میں پڑنے کا جیسے بہت ہی زیادہ رش ہو، جس کی وجہ سے ایک مسلمان شرعی مخالفات میں مبتلا ہوجائے ، تو میں یہی کہوں گا کہ ایک عام شرعی قاعدہ ہے (جیسا کہ حدیث ہے):

لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ ([1])

(نہ کسی کو ضرر پہنچاؤ، اور  نہ ضرر اٹھاؤ)۔

اور ایک دوسرا قاعدہ ہےجو کہتا ہے سد ذرائع ہونا چاہیے۔لہذا اگر ایک مسلمان کو خدشہ ہو کہ ان بازاروں اور رعایتوں میں مشارکت کرنے سے  وہ کسی حرام میں مبتلا ہوجائے گا ، تو اسے چاہیے کہ اس چیز کو چھوڑ دے، حالانکہ اس بارے میں اصل یہی ہے کہ اگر یہ ان کے دینی شعائر سے مربوط نہ ہو، تو اصل یہی ہے کہ یہ مباح ہے۔لیکن اس خدشے اور ڈر سے کہ کہیں حرام میں واقع نہ ہوجائیں ۔۔۔ تو چاہیے کہ ان سے پرہیز کریں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ

(نہ کسی کو ضرر پہنچاؤ، اور  نہ ضرر اٹھاؤ)۔

اور سد ذرائع کا قاعدہ  ایک مقرر ہ شرعی قاعدہ ہےعلماء سلف کے نزدیک۔ واللہ المستعان۔

(نومبر، 2015ع ٹیلی لنک کے ذریعے کیا گیا سوال، مسجد التوحید، اسٹون ماؤنٹین، جورجیا، امریکہ)

سوال: میں ایک تاجر ہوں اور (نصاریٰ کے تہوار) thanksgiving کے بعد والا دن سال کا سب سے مصروف ترین کاروباری دن ہوتا ہے، جسے بلیک فرائیڈے (نسأل الله العافية)کہتے ہيں۔(شیخ مسکرائے!)  تو کیا اس روز میں اپنی اشیاء پر  خصوصی رعایت وپیشکش دے سکتا ہوں؟ یا پھر یہ کافروں سے مشابہت کہلائے گی؟

جواب از شیخ حسن بن عبدالوہاب البنا حفظہ اللہ:

میرے خیال سے شاید جس وجہ سے یہ لوگ اسے بلیک فرائیڈے (سیاہ جمعہ) کہتے ہوں گے یہ ہوگا کہ  تلمود میں جو کہ توراۃ کی تشریح ہے جو کہ احبار کی لکھی ہوئی ہے، اس میں لکھاہے کہ جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہے جو کہ منحوس  اور بری ہے۔ جبکہ اس کے برعکس رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو فرمایا اس یوم جمعہ کےتعلق سے کہ اس میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کوئی بھی مسلمان اس میں جو دعاء کرے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔

چناچہ ہمارے پاس دو ممکنات ہیں:

1- بطور تاجر آپ اپنی فروخت کریں دوسری نیت سے اس صورت میں آپ اپنے اردگرد کے تاجروں سے مقابلہ کررہے ہوں گے۔ لیکن اس میں مجھے خدشہ ہے کہ بطور تاجر آپ کو کچھ اعلان لکھ کر اپنے دکان کے قریب رکھنا ہوگا جس میں  کچھ یوں لکھا ہوگا کہ یہ بلیک فرائیڈے کسی بھی انسان کی فطرت کے ہی خلا ف ہے! لیکن یہ آپ کو آپ کے گاہکوں یا پڑوسیوں کی طرف سے کسی مصیبت میں پھنسا سکتا ہے۔ اسی لیے آپ اپنی سیل کو کسی دوسری نیت سے کریں  تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ آپ بلیک فرائیڈے میں شرکت نہیں کررہے۔

2- بہرحال جو بات آپ کے لیے زیادہ بہتر ہے وہ یہ ہے کہ آپ مکمل طور پر اس دن اپنی دکان ہی بند رکھیں، تاکہ لوگوں کو یہ دکھا سکیں یا جو بعد میں دریافت کریں کہ آپ اس اصطلاح بلیک فرائیڈے کا اقرار نہيں کرتے، اور یہ کہ یہ بذات خود ایک غلط بات ہے۔ وہ اس لیے کہ یہ ایک طریقے ہے اسلام اور پیغمبر اسلام پر طعن ہوگا کہ جمعہ کے (مبارک) دن کو بلیک فرائیڈے کہا جائے۔

لہذا اگر آپ اپنی دکان کو اس دن بند کرتے ہيں تو یہ آپ کے لیے بہترین ہوگا، پھر اس کے بعد آپ کسی بھی اور دن اپنی سیل رکھ سکتے ہیں خواہ  وہ اس دن سے پہلے ہو یا بعد میں، یہی آپ کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔

سائل نے کہا: یا شیخ! ہمارا ایسا کرنا کہيں یہود کے عمل کے مشابہ تو نہيں ہوجائے گا کہ جب اللہ نے انہيں ہفتے کے دن مچھلی کا شکار کرنے سے منع کیا تو انہوں نے اپنے جال جمعہ کو پھینک کر اتوار کو اٹھا لیے (بطور حیلہ)؟

شیخ: نہيں، اللہ تعالی نے یہود کو حکم دیا تھا کہ ہفتے کے دن مچھلی کا شکار نہ کریں، اسی لیے انہوں نے یہ حیلہ سازی کی پس انہوں نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی۔ لیکن ہمارے معاملے میں تو اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے دین اور اپنے پیغمبراسلام کے لیے  کھڑے ہوں۔

خرید وفروخت، تجارت یا کاروبار  کا مسئلہ یہاں یکساں نہيں ہے۔ حتیٰ کہ یہاں مصر میں بعض دکانیں جب اپنا موسم گرما کا مال نکالنا چاہتی ہيں  تو سیل لگا دیتی ہيں تاکہ وہ آنے والے موسم (سرما) کی تیاری کرسکیں۔

اللہ اعلم۔

(موحدین پبلی کیشنز کے بھائیوں کا شیخ حفظہ اللہ سے بروز بدھ، 23 صفر 1438ھ بمطابق 23 نومبر 2016ع کو کیا گیا سوال)

 


[1] صحیح ابن ماجہ 1909۔

 

November 22, 2017 | آداب، اخلاق وعادات, الشيخ محمد بن عمر بازمول, شیخ حسن بن عبدالوہاب البنا, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com