menu close menu

بغیر علم کے فتوی دینے میں جلدبازی کرنا – شیخ محمد ناصرالدین البانی

Giving Fatwa without proper knowledge and being hasty in answering – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

بغیر علم کے فتوی دینے میں جلدبازی کرنا   

فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ  المتوفی سن 1420ھ

(محدث دیارِ شام)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: سلسلة الهدى والنور رقم الشريط: 258 رقم الفتوى: 05۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: بہت سے لوگ ہیں جو بنا علم کے فتوی دے دیتے ہیں، اللہ تعالی سے ہی عافیت کا سوال ہے، اور یہ بات بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے آجکل۔۔۔

 

الشیخ: بالکل صحیح کہا آپ نے شدید افسوس کی بات ہے۔ اور یہ جائز نہيں ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا جیساکہ آج خطبے میں بھی ذکر ہوا کہ:

﴿وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ  ۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــــُٔــوْلًا﴾  (الاسراء: 36)

(اور اس چیز کا پیچھے نہ پڑیں جس کا آپ  کوکوئی علم نہیں ۔ بےشک کان اور آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک سے اس کے متعلق باز  پرس ہوگی)

 

جو کوئی بغیر علم کے فتوی دیتا ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں پکڑ لے۔ یہ بالکل بھی جائز نہيں۔ آجکل اکثر طالبعلم ایسے ہی ہوتے ہیں افسوس کی بات ہے۔ اور یہ اس غرور وخودفریبی میں سے ہے جس میں فی زمانہ طلاب العلم مبتلا ہیں۔ کیونکہ انہوں نے علم کے راستے کو آسان بنایا اور گمان کرنے لگے کہ واقعی یہ بہت سہل ہے کہ نہیں معلوم ان میں سے کس نے کتنی حدیث پڑھیں یا کتنی کتابیں پڑھی اور وہ پوری دنیا کا علامہ بن گیا، اور وہ فتوی دے رہا ہے جیسے چاہتا ہے حلال وحرام قراردے رہا ہے، یہ اس دور کی مصیبت ہے۔۔۔کبار علماء کرام میں سے اگر کسی سے کسی چیز کے بارےمیں سوال کیا جاتا تو وہ اسے دوسرے کی طرف پھیر دیتے، حالانکہ وہ خود بھی بہت بڑے عالم ہوا کرتے تھے لیکن چونکہ بلاشبہ یہ ایک عظیم مسئولیت وذمہ داری ہے جو انسان لیتا ہے، کیونکہ جب وہ سوال کا جواب دیتے ہیں تو گویا کہ اس کے انجام کی اچھا ہو یا برا ذمہ داری اپنے سر لیتے ہیں، لہذا وہ اس سے پرہیز کرتے اور علم کے اوپر یہ جرأت نہ کرتے۔ چناچہ ضروری ہے کہ اس زمانے میں بھی یہ بات ایسی ہی ہو خصوصاً ہمارے لیے جو سلف کی طرف منسوب ہوتے ہیں، یا حدیث پر عمل کرنے کی طرف منسوب ہوتے ہیں یا سنت کی نصرت کرنے کی طرف، جب ہم یہ کہتے ہیں کہ:

وكل خير في اتباع من سلف          وكل شر في ابتداع من خلف

(ہر خیر سلف کی اتباع میں ہے، اور ہر شر خلف کی ایجاد کردہ بدعات میں ہے)

 

اتباع سنت محض یہ نہيں کہ ہم کہیں یہ سنت ہے یہ بدعت ہے، بلکہ یہ ہر چیز میں ہونی چاہیے، اخلاق وسلوک میں بھی، اور اسی میں سے یہ بھی ہے جس کی ہم بات کررہے ہیں کہ سلف اس بات سے شدید پرہیز کرتے تھے کہ وہ جواب دینے میں جلدبازی سے کام لیں  بلکہ وہ سوال کو دوسرے کی طرف پھیر دیتے۔ اسی طرح سے اس زمانے میں بھی ہونا چاہیے تاکہ ہم کماحقہ عملی طور اتباع سلف کرنے والے جانے جائيں۔ بات واضح ہے؟

 

سائل: جی واضح ہے۔

 

دوسرا سائل: لیکن کیا یہ کتمانِ علم (علم کو چھپانے) میں شمار نہیں ہوگا؟۔۔۔

 

الشیخ: نہیں، لیکن اگر بات صرف اسی شخص پر محصور ہو اور اس کے علاوہ کوئی جواب دینے والا ہو ہی نہیں، تو پھر اس پر واجب ہے کہ وہی جواب دے دے۔

November 9, 2015 | الشيخ محمد ناصر الدين ألباني | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com