menu close menu

بختی اونٹوں کی کوہان کے مانند سر والی عورتوں سے کیا مراد ہے؟ – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

What is meant by the Hadeeth: "Their head will appear like the humps of the Bukht camels" – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

بختی اونٹوں کی کوہان کے مانند سر والی عورتوں سے کیا مراد ہے؟   

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: عمر طارق

مصدر: شيخ کی آفشيل ويب سائٹ سے: معنى حديث (مائلات مميلات رؤوسهن كأسنمة البخت)۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حديث ميں وارد فرمان:

"ايسی عورتيں جو خود بھی برائی کی طرف مائل ہوں گی اور دوسروں کو بھی برائی کی طرف مائل کريں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کی کوہان کے مانند ہوں گے"

 اس سے کيا مراد ہے؟

جواب:يہ ايک صحيح حديث ہے جس کو امام مسلم نے اپنی صحيح ميں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روايت کيا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايا:

" دو قسم کے جہنمی لوگ ہيں جن کو ميں نے نہيں ديکها: تاج پہنے ہوئے لوگ جن کے ہاتهوں ميں کوڑے ہوں گے جس سے وہ لوگوں کو (ظالمانہ) ماريں گے، اور ايسی عورتيں جو لباس پہننے کے باوجود برہنہ ہوں گی، جو خود بھی برائی کی طرف مائل ہوں گی اور دوسروں کو بھی برائی کی طرف مائل کريں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کی ایک طرف جھکی ہوئی کوہان کے مانند ہوں گے، وہ بالکل بھی جنت ميں داخل نہ ہوسکيں گی اور نا ہی اس کی خوشبو تک سونگھ پائيں گی، جبکہ بلاشبہ جنت کی خوشبو تو اتنے اتنے فاصلے (یعنی بہت دور تک) سونگھی جاسکے گی"۔

اہل علم نے اس حديث کی وضاحت میں یہ بھی بیان کيا ہے کہ:

 وہ اللہ تعالی کی نعمتوں کا لباس پہنے ہوں گی، مگر وہ ان کا شکر ادا کرنے سے برہنہ (عاری) ہوں گی۔

اور علماء کی ایک جماعت نے اس حديث کی وضاحت ميں يہ فرمايا کہ:

وہ نہايت ہی شفاف اور مختصر کپڑے زيب تن کیے ہوں گی، اور وہ برہنہ اس لیے ہوں گی کيونکہ بے شک يہ لباس ان کو صحيح طور پر ڈهانپے گا نہيں، لہذا گویا کہ وہ برہنہ لوگوں کے حکم ميں ہی شمار ہوں گے۔

اور يہ ايک عظيم برائی ہے، عورت پر يہ واجب ہے کہ وہ اپنے خادم، اپنے بہنوئی، اپنے دیور اور ديگر اجنبیوں سے مکمل طور پر پردہ کرے۔  يہ پردہ لازمی طور پر اس کے پورے جسم، سر، اور چہرہ کو نامحرم لوگوں سے چھپائے، اور اگر وہ اس ميں سے کچھ چيزوں کو چھوڑ ديتی ہے تو يہ اس کو (اس حديث ميں مذکور) لباس پہننے کے باوجود برہنہ لوگوں کے حکم ميں شامل کر ديگا۔

اور جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق ہے کہ:

"وہ خود بھی برائی کی طرف مائل ہوں گی اور دوسروں کو بھی برائی کی طرف مائل کريں گی"۔

تو اہل علم کہ نزديک اس سے مراد يہ ہے کہ وہ حق، عفت وپاکدامنی اور استقامت سے روگردانی کرتے ہوئے فساد اور فحاشی کی طرف مائل ہوں گی، اور دوسروں کو بھی اس طرف مائل کريں گی۔

پس وہ پاکدامنی اور استقامت سے روگردانی کرتے ہوۓ فساد، زنا، فحاشی اور باطل کی طرف مائل ہوتی ہیں، اور دوسری عورتوں کو بھی اس کی طرف مائل کرتی ہيں، یعنی وہ فحاشی کے طرف بلاتی ہيں اور فحاشی تک رسائی کا واسطہ بنتی ہیں۔

اور جس نے اس سے مراد يہ ليا ہے کہ وہ ٹيڑهی مانگ نکالتی ہوں گی، تو يہ بات بلکل بھی درست نہيں اور فضول بات ہے۔ جو صحيح وصواب بات ہے وہ يہی ہے کہ اس سے مراد ہے کہ وہ حق، پاکدامنی اور استقامت سے روگردانی کرتے ہوئے فساد اور برائی کی طرف مائل ہونے والی ہيں، ساتھ ہی وہ دوسری عورتوں کو بھی اسی طرف مائل کرنے والی ہيں۔ ہم اللہ تعالی ہی سے عافيت کا سوال کرتے ہيں۔

اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان کہ:

"ان کے سر بختی اونٹوں کی ایک طرف کو جھکے ہوئے کوہان کے مانند ہوں گے"۔

تو يہ ان کی علامتوں ميں سے ايک علامت ہے، کہ وہ اپنے سروں كو کھڑا اور نماياں کرنے کے لیے اس پر بعض چيزيں جمع کرتی ہيں تاکہ وہ بڑے نظر آئیں، گويا کہ يہ ان کی علامت ہے بعض ان علاقوں ميں جو ان برے کاموں کے عادی ہيں۔

August 10, 2017 | الشيخ عبد العزيز بن باز, خواتین, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com