menu close menu

بازاروں اور پارکوں میں دینی تقاریر ودروس منعقد کرنے کا حکم – شیخ محمد بن ہادی المدخلی

Ruling regarding organising Islamic lectures in markets and parks – Shaykh Muhammad bin Hadee Al-Madkhalee

بازاروں اور پارکوں میں دینی تقاریر ودروس منعقد کرنے کا حکم   

فضیلۃ الشیخ محمد بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(رکن تعلیمی کمیٹی، کلیۃ حدیث شریف ودراسات اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: حكم تقصُّد إقامة المحاضرات في الأسواق والمنتزهات

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: بعض جماعتیں کچھ دینی تقاریر ودروس بازاروں اور پارکوں میں منعقد کرنے کاقصد کرتی ہیں، مقصد یہ ہوتا ہے تاکہ عام عوام کو مخاطب کیا جائے چاہے مرد حضرات ہوں یا خواتین ، بچے اور نوجوان غرض ہر قسم کے لوگ۔  وہ ان تقاریر کے انعقاد کے لیے ظاہر ہے جب ان سے مناقشہ کیا جاتا ہے تو دلیل میں کہتے ہيں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو بازاروں میں دعوت فرمایا کرتے تھے اور فرماتے لوگوں کو کہ: ’’قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، تُفْلِحُوا‘‘([1]) (لا الہ الا اللہ کہو فلاح پاجاؤ گے)، پس وہ اس فعل پر عمل کرنا چاہتے ہيں، لہذا اس عمل کی مشروعیت کہاں تک درست ہے؟

 

جواب: الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين.أما بعد:

جی بالکل وہ سچ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعوت کے شروع عرصے میں لوگوں کے پیچھے جایا کرتے تھے، اپنے آپ کو موسم (حج)  میں منیٰ وغیرہ میں قبائل پر پیش فرمایا کرتے تھے اور فرماتے:

’’مَنْ يَحْمِلُنِي  إِلَى قَوْمِهِ فأُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي‘‘([2])

(کون مجھے اپنی قوم میں لے جائے گا تاکہ میں اپنے رب کا کلام پہنچا سکوں، کیونکہ قریش نے میرے رب کا کلام پہنچانے  کے تعلق سے مجھ پر پابندی لگا کر منع کردیا ہے)۔

 

یہ صحیح ہے۔۔۔اسی طرح آپ عکاظ کے بازار میں کیا کرتے تھے۔۔۔اور اسی طرح دیگر مجمعوں میں بھی کرتے۔ جس نے یہ کہا سچ ہی کہا۔

 

لیکن جب اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمکین وجگہ عطاء فرمائی، اور مدینہ نبویہ کی جانب ہجرت کا حکم ہوا اور لوگوں نے اس مدینہ  طیبہ مبارکہ میں قرار پکڑ لیا، اور وہاں اسلام غالب آگیا تو پھر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازاروں کی طرف اس طرح سے تشریف لے گئے؟! میں آپ سے سوال کرتا ہوں؟ اب ہم ان کے کلام کا جو پہلے نصف حصہ ہے اس سے اتفاق کرتے ہيں اور برحق استدلال ہے کوئی حرف بھی غلط نہیں۔ لیکن بات یہ ہے کہ ایسا دعوت کے شروع میں تھا کیونکہ آپ کے پاس جگہ نہ تھی نہ کوئی مقام، اس کی دلیل یہی حدیث ہے کہ فرمایا: (کون مجھے اپنی قوم میں لے جائے گا تاکہ میں اپنے رب کا کلام پہنچا سکوں، کیونکہ قریش نے میرے رب کا کلام پہنچانے  کے تعلق سے مجھ پر پابندی لگا کر منع کردیا ہے)۔ پس ا س کے بعد ایسے لوگ میسر آہی گئے جو انہیں اپنی قوم میں لے گئے اور وہ انصاررضی اللہ عنہم تھے:

وجندٌ من الأنصارِ لا يخذلونه *** أطاعوا فما يعصونه ما تكلَّمَا صلی اللہ علیہ وسلم

 

چناچہ جب انہوں نے عہد کرلیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت، دین کی نصرت، اور ان کا دفاع ہر اس چیز سے کریں گے جس سے اپنا، اپنی اولاد اور اہل وعیال کا کرتے ہیں، تو پھر اس کے بعد بھی کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بازاروں کی طرف گئے؟! یا نہیں گئے اور مسجد میں بیٹھا کرتے؟! مسجد میں ہی بیٹھا کرتے اور مسجد میں ہی تعلیم دیا کرتے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا جیسا کہ مسند الامام احمد میں حسن اسناد کے ساتھ موجود ہے کہ:

زمین میں کونسی جگہیں اللہ تعالی کو سب سے زیادہ نا پسند ہیں اور کونسی سب سے زیادہ پسند ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم البتہ جب جبرئیل علیہ السلام آئیں گے تو میں ان سے پوچھ لوں گا۔ پس جبرئیل علیہ السلام  ان پر وحی لے کر نازل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھ لیا کہ: زمین میں کونسی جگہیں اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہیں اور کونسی سب سے زیادہ ناپسند ہیں؟ انہوں نے بھی جواب دیا کہ: مجھے نہيں معلوم البتہ میں اپنے رب عزوجل سے پوچھوں گا۔چناچہ جبرئیل علیہ السلام  لوٹ گئے اور اپنے رب تبارک وتعالی  سے پوچھا، پھروہ اس کے بعد نازل ہوئے اور بتلایا کہ: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلمآپ نے مجھ سے یہ سوال پوچھا تھا (اور جو سوال گزرا وہی ذکر فرمایا) اور کہا کہ میں نے اپنے رب عزوجل سے یہ سوال کیا تھا پھر بتلایا کہ:

’’إنَّ أحَبَّ البقاع  إلى الله المساجد وأبغض البقاع إلى الله الأسواق‘‘([3])

(بے شک اللہ تعالی کے نزدیک سب سے پسندیدہ جگہیں مساجد ہیں اور اللہ تعالی کے نزدیک سب سے ناپسند جگہیں بازار ہیں)۔

 

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بازاروں میں کھڑے ہوکر لوگوں کو وعظ ونصیحت نہيں فرمایا کرتے تھے، بلکہ مساجد میں یہ کام کرتے تھے۔ پس وفود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مساجد میں ہی آیا کرتے تھے، اور دور دیہاتوں سے بھی لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں ہی آیا کرتے تھے۔

 

لہذا علم وتعلیم کی جگہ مساجد ہيں، اور اس کی جگہ  علمی مراکز، علمی دورے، علمی مجمع اور علمی مجالس ہیں، جبکہ بازار اس کی جگہ نہيں۔لیکن ہاں اگر بازار میں کوئی منکر ہو تو انسان اس کا انکار کرے اور معروف کی طرف دعوت دے، شروباطل کو ختم کرنے کی کوشش کرے، یہ تو ضروری ہے، مگرباقاعدہ علمی حلقوں اور دعوتوں کو ان بازاروں میں منعقد کرنا  علم کی توہین وتذلیل ہے۔

 


[1] مسند احمد 15593،  الصحیح المسند للوادعی 516۔

 

[2] صحیح ابن ماجہ 167، صحیح ابی داود 4734، صحیح ترمذی 2925 میں کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ۔

 

[3] یہ روایت صحیح مسلم 673 میں ان الفاظ کےساتھ بھی موجود ہے: ’’أَحَبُّ البِلَادِ إِلَى اللَّهِ، مَسَاجِدُهَا، وَأَبْغَضُ البِلَادِ إِلَى اللَّهِ، أَسْوَاقُهَا‘‘۔

 

September 30, 2015 | الشیخ محمد بن ہادی المدخلی, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com