menu close menu

بارش – مختلف علماء کرام

Rain – Various 'Ulamaa

بارش

مختلف علماء کرام

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر (جمع وترتیب: میراث الانبیاء ڈاٹ نیٹ)۔

پیشکش: توحید خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

1- بارش کے وقت کی دعاء:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بارش نازل ہوتی تو یہ فرماتے:

’’اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا‘‘

(اے اللہ!  اسے نفع بخش بارش بنادے)۔

اسےالبخاری 1032 نے روایت کیا۔

اور ابو داود 5099 کے لفظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے:

’’اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا‘‘

(اے اللہ! اسے آسانی وراحت والی بارش بنادے)۔

اسے الالبانی نے صحیح فرمایا۔

2- بارش میں جانا مستحب ہے کہ  انسان کے بدن کا کچھ حصہ اس سے بھیگ جائے:

 کیونکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بات ثابت ہے کہ فرمایا:

’’أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَطَرٌ، قَالَ: فَحَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ مِنَ الْمَطَرِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ:  لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ تَعَالَى‘‘

(ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش برسی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا کچھ کپڑا سرکایا تاکہ اسے بارش لگے،  ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: کیونکہ بے شک یہ اپنے رب تعالی کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے)۔

اسے مسلم 898 نے روایت کیا۔

3- جب بارش شدت اختیار کرجاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے:

’’اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ ، وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ‘‘

(اے اللہ! ہمارے اطراف میں بارش برسا ، ہم پر نہ برسا۔ اے اللہ! ٹیلوں،پہاڑیوں، وادیوں کے بیچ اور درخت اگنے کی جگہوں کو سیراب فرما)۔

اسے البخاری 1014 نے روایت فرمایا۔

4- بارش طلب کرنے کی دعاء:

البخاری کی اسی روایت میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ: ایک شخص بروز جمعہ مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرمارہے تھے، اس نے عرض کی:

’’يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعْتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يُغِيثُنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا‘‘

(یا رسول اللہ! مال مویشی ہلاک ہوگئے اور راستے بند ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہم پر بارش برسائے۔ چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھ مبارک اٹھا کر دعاء فرمائی کہ: ’’اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا‘‘ (اے اللہ! ہم پر بارش برسا، اے اللہ! ہم پر بارش برسا، اے اللہ! ہم پر بارش برسا))۔

5- کیا بارش کے برستے وقت دعاء قبول ہوتی ہے؟

مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’اطْلُبُوا  اسْتِجَابَةَ  الدُّعَاءِ  عِنْدَ الْتِقَاءِ الْجُيُوشِ، وَإِقَامَةِ الصَّلَاةِ، وَنُزُولِ الْغَيْثِ‘‘

(دعاء کی قبولیت کو تلاش کرو جہاد کے موقع پر جب فوجیں باہم ملتی ہيں، اقامتِ صلاۃ کے وقت اور بارش نازل ہوتے وقت)۔

شیخ البانی نے صحیح الجامع 1026 میں اسے صحیح فرمایا۔

ایک اور روایت سیدنا سہل بن سعد السعدی رضی اللہ عنہ سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’ ثِنتَانِ مَا تُرَدَّانِ: الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ وَتَحْتَ الْمَطَرِ‘‘

(دو دعائیں رد نہیں ہوتیں: اذان کے وقت اور برستی بارش کے نیچے)۔

اسے شیخ البانی نے صحیح الجامع 3078 میں حسن فرمایا ہے۔

7-  ہر سال بارش کی مقدار یکساں ہوتی ہے لیکن اس کی تقسیم مختلف ہوتی رہتی ہے:

شیخ البانی السلسلۃ الصحیحۃ میں یہ حدیث ذکر فرماتے ہیں:

’’مَا مِنْ عَامٍ بِأَكْثَرَ مَطَرًا مِنْ عَامٍ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُصَرِّفُهُ بَيْنَ خَلْقِهِ [حَيْثُ يَشَاءُ]  ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ [لِيَذَّكَّرُوْا]﴾‘‘

(کوئی بھی سال دوسرے سال کی نسبت زیادہ بارشوں والا نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالی اپنی مخلوق میں اس کی الٹ پھیر فرماتا رہتا ہے [جیسے چاہتا ہے] پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: اور بلاشبہ یقیناً ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر نازل کیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں([1])

اسے شیخ البانی السلسلۃ الصحیحۃ  2461 میں لائے ہیں ، فرماتے ہیں: اسے ابن جریر نے اپنی تفسیر 19/15 میں اور الحاکم 2/403 نے مستدرک میں روایت کیا اور فرمایا: ’’صحيح على شرط الشيخين‘‘ اور الذھبی نے ان کی موافقت فرمائی، شیخ البانی فرماتے ہيں کہ یہ واقعی ایسی ہے جیسا کہ انہو ں نے فرمایا۔

اور البغوی ’’معالم التنزیل‘‘ 6/184 ط منار میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کے بعد فرماتے ہیں:

اور یہ حدیث ایک مرفوع روایت کی طرح ہے کہ فرمایا:

’’مَا مِنْ سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ إِلَّا السَّمَاءُ تُمْطِرُ فِيهَا، يُصَرِّفُهُ اللَّهُ حَيْثُ يَشَاءُ ‘‘

(رات اور دن کی کوئی گھڑی ایسی نہيں ہوتی کہ جس میں آسمان بارش نہ برساتا ہو، لیکن اللہ تعالی اسے پھیرتا رہتا ہے جہاں چاہتا ہے)۔

اور ابن اسحاق وابن جریج ومُقَاتِل نے ذکر کیا اور اسے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تک لے گئے کہ وہ اسے مرفوع بیان کرتے ہوئے فرماتے:

’’ليس من سنة بأمطر من أخرى ، ولكن الله قسم هذه الأرزاق ، فجعلها في السماء الدنيا، في هذا القطر ينزل منه كل سنة بكيل معلوم ووزن معلوم، وإذا عمل قوم بالمعاصي حول الله ذلك إلى غيرهم، فإذا عصوا جميعا صرف الله ذلك إلى الفيافي والبحار‘‘

(کوئی سال بارش میں دوسرے سے مختلف نہیں ہوتا، لیکن اللہ تعالی اس رزق کو تقسیم فرماتا ہے، تو وہ آسمان دنیا میں اس بارش کو رکھ دیتا ہے، اور اس میں سے ہر سال معلوم مقدار ووزن میں نازل فرماتا رہتا ہے۔ اگر کوئی قوم نافرمانی کرتی ہے تو اللہ تعالی ان سے  اسے پھیر کر دوسروں کی طرف لے جاتا ہے۔ اور اگر سب کے سب ہی نافرمانی پر اترآتے ہیں تو اللہ تعالی اسے پھیر کر صحراؤں اور سمندروں کی طرف لے جاتا ہے)۔

میں (الالبانی) یہ کہتا ہوں: جو کچھ بیان ہوا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے، لیکن اس کا حکم مرفوع کا ہے کیونکہ بلاشبہ اس قسم کی بات اپنی رائے اور اجتہاد سے نہیں کہی جاسکتی، اور اس لیے بھی کہ یہ مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے، واللہ اعلم۔

 

امام البربہاری رحمہ اللہ کے اس قول:

’’والإيمانُ بأنّ مع كلِّ قطرةٍ مَلَكٌ يَنزِلُ من السّماء، حتّى يضعها حيث أمره الله عز وجل‘‘

(اور ایمان رکھنا کہ بے شک ہر قطرے کے ساتھ جو آسمان سے برستا ہے ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اسے وہاں رکھتا ہے جہاں اللہ تعالی اسے حکم دے)۔

 کی تشریح میں شیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

البتہ جو مؤلف رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا کہ ہر قطرے کے ساتھ ایک فرشتہ ہوتا ہے تو یہ بات اللہ تعالی کی قدرت، اس کی وسیع بادشاہت اور اس کے فرشتوں وغیرہ کے کثیر لشکر ہونے سے کچھ بعید نہيں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَلِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا﴾ (الفتح: 4)

(اور آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ ہی کے ہیں، اور اللہ تعالی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے)

لیکن مجھے اس کی کوئی دلیل قرآن یا سنت میں سے نہیں ملی، جبکہ یہ امورِ غیبیہ میں سے ہے۔ البتہ اس کے قریب قریب الحسن اور الحکم بن عتیبہ سے روایت نقل کی گئی ہے۔ اور مجھے خدشہ ہے کہ یہ اسرائیلیات میں سے ہو۔ خدشہ ہے کہ ان دونوں نے اسرائیلی روایات میں سے اسے لیا ہو۔ اللہ اعلم۔ لیکن اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث ثابت نہيں۔

(عون الباري بيان ماتضمّنه شرح السّنّة للبربهاري  م 1 ص 390-391)

 


[1] ان آیات کی طرف اشارہ ہے: ﴿ وَهُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ  ۚ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُوْرًا ، لِّنُحْيِۦ بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا وَّنُسْقِيَهٗ مِمَّا خَلَقْنَآ اَنْعَامًا وَّاَنَاسِيَّ كَثِيْرًا، وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا،  فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرً﴾ (الفرقان: 48-50) (اور وہی ہے جس نے ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری کے لیے بھیجا اور ہم نے آسمان سے پاک پانی برسایا، تاکہ ہم اس کے ذریعے ایک مردہ شہر کو زندہ کریں اور اسے اس مخلوق میں سے جو ہم نے پیدا کی ہے، بہت سے جانوروں اور انسانوں کو پلائيں، اور بلاشبہ یقیناً ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر نازل کیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں، مگر اکثر لوگوں نے ناشکری کرنے کے سوا کچھ نہیں مانا) (توحید خالص ڈاٹ کام)۔

August 28, 2016 | متفرقات, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com