menu close menu

ایک درود شریف پڑھنے سے اسّی سال کے گناہ معاف ہونے کی حقیقت؟ – علمی تحقیقات اور افتاء کی مستقل کمیٹی، سعودی عرب

The reality of reciting a Durood to have 80 years of sins forgiven? – Fatwaa committee, Saudi Arabia

ایک درود شریف پڑھنے سے اسّی سال کے گناہ معاف ہونے کی حقیقت؟

علمی تحقیقات اور افتاء کی مستقل کمیٹی، سعودی عرب

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: فتاوى اللجنة الدائمة >  الآداب الشرعية  >  الأخلاق  >  الأخلاق الحميدة  >  من الأخلاق الحميدة الذكر  >  الأذكار المرتبة على الأوقات والحوادث  > س: حديث شريف منقول عن أبي هريرة رضي الله عنه يقول ما معناه: من صلى العصر يوم الجمعة ثم صلى على النبي صلى الله عليه وسلم وهو جالس في مكانه على النحو التالي: (اللهم صل على محمد النبي…

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

فتوی رقم 19609

سوال: ایک حدیث شریف جو کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جس کا معنی یہ ہے کہ: جس نے جمعہ کے دن عصر کی نماز پڑھی پھر اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا اس طرح سے:

’’اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آله وسلم تسليمًا‘‘

(اے اللہ! درود وسلام بھیج تو محمد نبی الامی پر اور آپ کی آل پر)

اسّی (80) مرتبہ،  تو اس کے اسّی سال کے گناہ معاف کردیے جاتے ہيں،  اور اسّی سال کی عبادت کے بقدر نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔ اور اس کتاب کو تیار کرنے والے نے لکھا ہے کہ یہ حدیث الدارقطنی سے مروی ہے۔ اور حافظ العراقی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ پس سوال یہ ہے کہ کیا یہ حدیث واقعی صحیح ہے؟ اس کی صحت کا درجہ کیا ہے؟ اور اگر یہ صحیح ہے تو اس کے اصل الفاظ کیا ہیں؟ اور بطور معلومات سماحۃ الشیخ یہ بھی عرض ہے کہ یہ حدیث پاکستانی ٹیلی وژن چینل پر کسی تجارتی کمپنی کے کمرشل اشتہار میں بھی مکرر پیش کی جاتی ہے، اور یہ سلسلہ پورے رمضان چلتا رہتا ہے؟

جواب: اس مذکورہ حدیث کی کوئی اصل نہيں ہے، لہذا اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا تو ہر وقت ہی مستحب ہے۔ اور جمعہ کے دن اس کی خصوصی تاکید بھی ہے مگر بغیر کسی وقت کے تعین کے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا‘‘([1])

(جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا اللہ تعالی اس پر دس بار رحمت فرماتے ہے (یا اپنی ملأ اعلی میں اس کا ذکر فرماتے ہیں))۔

اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’خير الأيام يوم الجمعة، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ،  قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا وَقَدْ أَرِمْتَ؟ أي: بَلِيتَ، فَقَالَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:  إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ‘‘([2])

(بہترین دن جمعہ کا دن ہے، پس اس میں مجھ پر کثرت کے ساتھ درود بھیجا کرو، کیونکہ بلاشبہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ آپ (فوت ہوکر) مٹی ہوچکے ہوں گے؟  یعنی: ہڈیاں تک گل چکی ہوں گی۔ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے: بے شک اللہ تعالی نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے جسموں کو کھائے)۔

وبالله التوفيق، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم .

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء

رکن                  رکن                       رکن                         نائب صدر                       صدر

بكر أبو زيد       صالح الفوزان      عبد الله بن غديان       عبد العزيز آل الشيخ     عبد العزيز بن عبد الله بن باز

 


[1] صحیح مسلم: الصلاۃ  408، سنن الترمذی: الصلاۃ 485،  سنن النسائی: السہو 1296، سنن ابی داود: الصلاۃ 1530، مسند احمد بن حنبل 2/375۔

 

 

[2] سنن النسائی: الجمعۃ 1374،  سنن ابی داود: الصلاۃ 1047، سنن ابن ماجہ: ماجاء فی الجنائز 1636، مسند احمد بن حنبل 4/8، سنن الدارمی: الصلاۃ 1572۔

 

 

May 27, 2016 | فتوی کمیٹی - سعودی عرب, فقہ وعبادات, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com