menu close menu

ایک اہلحدیث عالم کے ساتھ مناظرے میں ابو الاعلیٰ مودودی کی عبرتناک شکست

The humiliated defeat of Maududee in a debate with an Ahlehadees scholar

ایک اہلحدیث عالم کے ساتھ مناظرے میں ابو الاعلیٰ مودودی کی عبرتناک شکست   

اختصار و تفہیم: طارق علی بروہی

مصدر: روداد مناظرہ ، درمیان حکیم محمد صادق صاحب سیالکوٹی (ادیب فاضل ومنشی فاضل) ومولوی مودودی صاحب امیر وامام جماعت اسلامی (جمال پور، پٹھان کوٹ) برمکان: چوہدری عبدالحفیظ صاحب ایڈووکیٹ، شہر سیالکوٹ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

قیام پاکستان سے بھی آٹھ ماہ قبل دسمبر 1946ع میں اہلحدیث عالم حکیم محمد صادق صاحب سیالکوٹی وامیر و امام جماعت اسلامی مودودی صاحب رحمہما اللہ کے مابین  امارت وبیعت کے مسئلے پر ایک مناظرہ پیش آیا جس میں مودودی صاحب  لاجواب ہوکر فرار ہوگئے۔ حکیم صاحب نے متفق علیہ حدیث کہ: امام تو ایک ڈھال ہوتا ہے جس کے پیچھے رہ کر قتال کیا جاتا ہے پڑھی اور دریافت کیا کہ آپ کی امامت کی حیثیت کیا ہے، امام ِجہاد جو حکمران وامیر ہوتا ہے، یا نماز کے امام یا پھر دینی عالم ۔ چونکہ مودودی صاحب کسی علم وبصیرت پر تھے نہیں تو اس کا کوئی جواب انہيں نہيں آتا تھا، اور محض اسی سوال پر گنگ ہوکر سوچ کر بتا ؤ گا کا بہانہ کرکے چلتے بنے، اور پھر دیگر مجالس میں پکڑ سے بچ نکلنے کی کوشش کرتے رہے۔

یعنی اہل باطل کی طرح امارت وبیعت وبیت المال سب پر عمل چل رہا ہے مگر دلیل بعد میں سوچ کر، دیکھ کر بنائيں گے!

کافی ٹال مٹول کے بعد بھی ایسا وقت وجگہ منتخب کی کہ جماعتی کارکنان کو پتہ نہ چلے اور سب میری شکست فاش دیکھ کر بدک نہ جائيں۔

بہرحال حکیم صاحب نے احادیث صحیحہ پیش کیں اور  دوٹوک الفاظ میں فرمایا:

وہ امیریا امام جہاد اور اقامت دین کی بیعت لے سکتا ہے، اور بیت المال قائم کرنے کی اس امام کو شریعت کی طرف سے اجازت ہے، جس کے پاس حکومت ہو، سیاست ہو، کفار کے ساتھ جنگ کرے، اسلامی لشکر اور فوجیں رکھے، حدود شریعہ کا نفاذ کرسکے۔ ایسے امیر کی اطاعت اور بیعت واجب ہوتی ہے، اس کی جماعت سے باہر رہنا جاہلیت ہے۔ اس کے بالکل برعکس جو شخص یہ اوصاف نہ رکھتا ہو، صاحب سیف وسیاست نہ ہو، یہاں تک کہ طاغوت نے اس کو راشن کارڈ دیکر راتب بندی کردی ہو۔ ایسا شخص اگر اپنی اطاعت دوسروں پر واجب قرار دے، امیر یا امام بنے، جہاد کی بیعت لے، اور بیت المال  قائم کرے، تو بفرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے شخص کی بیعت ناجائز ، امارت باطل اور بیت المال قائم کرنا منع ہے۔ اور اس کی جماعت میں اس کی اطاعت واجب جان کر داخل ہونا پوری جاہلیت اور گناہ ہے۔

مودودی صاحب کے مناظرے سے بھاگتے رہنے پر حکیم صاحب فرماتے ہیں:

خود کو امام جہاد کہنے  والا باہر میدان میں نکل کر بات نہيں کرسکتا! اچھا جاؤ اپنے امام جہاد کو کہہ دو کہ محمد صادق اس کی چاردیواری، اس کی اپنی مجلس، اور اس کے خاص مریدوں کے اندر بحول اللہ القدیر اس امارت کا ابطال کرنے کو تیار ہے۔

پھر مودودی صاحب دن تاریخ مقرر کرنے کے بجائے شارٹ نوٹس پر بات کرنے کو تیار ہوئے یہ کہتے ہوئے کہ پھر تو شہر میں لوگوں کو پتہ لگ جائے گا، تو زیادہ لوگ جمع ہوجائیں گے!

مولانا محمد صادق صاحب نے فرمایا:

سبحان اللہ! یہ ہے امیر جہاد طاغوت بحر وبر سے ٹکر لینے کا عزم کجا، اور مسلمان بھائیوں سے خائف ہوکر ایک سائل سے بات کرنے کے لیے مریدوں کی چاردیواری کی پناہ لینا، استغفراللہ!

خیر جب مودودی صاحب قابو میں آہی گئی تو مولانا صاحب نے وہ آیات قرآنیہ پڑھیں جن میں مومنین کو حکمِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سرتسلیم خم کرنے کا حکم ہے، اور فرمایا:

یہاں امارت مودودی کا جھگڑا درپیش ہے۔ ہم میں سے جو فیصلۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سن کر فوراً عملی طور پر قبول نہ کرےگا، اس کو ایمان اپنے کی خیر منانا چاہیے۔ تو بتائيں آپ کی امارت کی نوعیت کیا ہے۔ امامت نماز ہے، امامت علم ہے یا امامت جہاد ہے۔ واضح ہو کہ امامت جہاد کی پہچان اور معرفت کے لیے میں پھر وہی حدیث اس وقت پڑھتا ہوں جو مسجد مبارک میں پڑھی تھی کہ: امام ایک سپر (ڈھال) ہوتا ہے، جس کو آگے کرکے جنگ کی جاتی ہے۔ امام صاحبِ سیف وسیاست ہوتا ہے، حدود شرعیہ کو نافذ کرتا ہے، دیوانی وفوجداری عدالتیں بناتا ہے، لشکر اور فوجیں رکھتا ہے، اسلامی مملکت کی سرحدوں پر چھاؤنیاں قائم کرتا ہے، اور شریعت کی طرف سے ایسے ہی امام کو حکم اور اجازت ہے کہ بیت المال قائم کرے، امور سلطنت کا انتظام کرے، ہاں تو فرمائيں: آپ کیسے امام ہیں، سوچ سمجھ کر کہيں۔

اس پر مودودی صاحب یہاں وہاں کی ہانکنے لگے کہ میں تو بکھرے مسلمانوں کو جمع کرنے والا ہوں، پھر سفر میں ایک کو امیر بنانے والی بات سے استدلال کرنے لگے  کہ اسی طرح دین کا کام لینے کے لیے لوگوں نے مجھے امیر بنایا ہے۔

مولانا صاحب نے جواب دیا کہ پھر تو آپ کی امامت امیر سفر والی ہوئی! کیا سفری یا نماز کا امام بھی جہاد کی بیعت لیتا ہے، بیت المال قائم کرتا ہے؟!

مودودی صاحب نفی میں جواب دیتے ہيں۔

مولانا صاحب انہیں پھر کہتے ہیں کہ:

(یعنی آپ امامت کبریٰ سے ہٹ کر) امام صغریٰ کا اقرار کرتے ہيں، اور جہاد کی بیعت لیتے ہیں، اپنی اطاعت اولیٰ الامر کی طرح دوسروں پر واجب کہتے ہیں، اور امیر المؤمنین ابو بکر t کی طرح بیت المال قائم کررکھا ہے، اور مریدوں کو حکم دے رکھا ہے کہ ان کی زکوٰۃ تو سوائے بیت المال مودودی کے قبول نہ ہوگی۔ فرمائیں، امام بامامۃ صغریٰ کس آیت یا حدیث کی رو سے جہاد کی بیعت لے سکتا ہے، اپنی اطاعت دوسروں پر واجب کرسکتا ہے، اور بیت المال قائم کرسکتا ہے، حالانکہ یہ کام امام جہاد سے متعلق ہیں۔

مودودی صاحب بالآخر کہہ اٹھتے ہیں کہ:

اچھا تو آپ مجھے امام جہاد ہی کہہ لیں۔

مولانا صاحب :

میں آپ کو کیوں کہوں، جب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کی امامت جہاد کو باطل اور ناجائز کہتے ہيں، تو پھر کون آپ کو امام جہاد کہہ کر اللہ اور رسول e کا نافرمان بن سکتا ہے، اور پھر کافر طاغوتی حکومت کی رعایا کے ایک فرد( مودودی) کو کیسے امام جہاد کہہ سکتا ہوں، خود فرمائيں!

مودودی مصر رہے ہیں ہاں میں امام جہادہوں۔

مولانا صاحب نے عرض کی:

مولانا! راشن کارڈ ہاتھ میں لے کر طاغوت کے حضور جاکر عرض کرنا: یا طاغوت! (امام جہاد کو) چائے کے لیے چینی دو۔ یا طاغوت! (امام جہاد کو) کپڑا تن ڈھانپنے کے لیے عطاء ہو۔ یا طاغوت! (امام جہاد کو) آٹا دو۔ مولانا! جس طرح دوسرے لوگ طاغوت کے حکم کی زنجیر میں کسے ہوئے ہيں، اسی طرح آپ بھی اسی زنجیر میں بندھے ہوئے کراہ رہے ہيں۔ فرمائیں کس منہ سے آپ اپنے تئیں امام جہاد کہتے ہيں۔

مودودی:

اگرچہ مجھے اختیار واقتدار حاصل نہيں لیکن ہوں امام جہاد، اور دعوت ہے اقامت دین۔

مولانا صادق:

مولانا! سنیں ایک شخص دیہات میں جاکر کہے کہ میری حیثیت تحصیلدار کی ہے، حکومت نے مجھے تحصیلدار مقرر نہیں کیالیکن میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ مجھے مالیہ دو۔ اس سر پھرے جھوٹے کو کون مالیہ دے گا؟! اسی طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو امامت جہاد کا منصب تفویض نہیں کیا، آپ خود اپنی طرف سے لوگوں کو کہہ رہے ہيں کہ میری حیثیت امام جہاد کی نہیں اور نہ شریعت کی طرف سے مجھ کو بیعت جہاد کی اجازت ہے، لیکن میں اپنے ذاتی حکم سے تمہیں کہتا ہوں کہ میرے بیت المال میں زکوٰۃ دو۔ میری اطاعت تم پر واجب ہے!

مولانا مکالمہ شروع ہوئے قریبا ًایک گھنٹہ ہونے کو ہے میں نے آپ کی زبان سے نہ کوئی آیت سنی ہے اور نہ کوئی حدیث،اور نہ آئمہ حدیث وفقہ کا کوئی قول۔اب میں آپ کی زبان سے آپ کی امامت جہاد کے ثبوت میں کوئی دلیل شرعی سننا چاہتا ہوں۔ فرمائیں کیسے ہوئے آپ امام جہاد؟

مودودی صاحب:

اچھا میں امام جہاد کے الفاظ واپس لیتا ہوں!!

محمد صادق:

 امام جہادکے الفاظ تو واپس لے لیے، تو مطلب یہ ہوا کہ نام نہاد دعوت اقامت دین (جہاد) بھی ختم۔ جہاد کی بیعت بھی باطل ٹھہری اور قیام بیت المال بھی شرعاً ناجائز ہوا۔ اور آپ کی حیثیت صرف ایک عالم اور مبلغ کی ہوگئی۔ اب آپ کی حیثیت نہ امیر باصطلاح  معروف رہی اور نہ آپ کی اطاعت دوسروں کے لیے باصطلاح شرعی واجب رہی۔

مودودی:

بیعت تو ہم ایسی ویسی نہیں لیتے صرف اقرار کرتے ہیں کہ دین کی خدمت کرنا ہوگی۔ یہ اقرار ہے، اچھا اسے بیعت کہہ لیجئے۔ اور بیت المال دینی ضروریات کے لیے ہے۔

محمد صادق:

واہ،  مودودی صاحب! کتاب دستور جماعت اسلامی میں تو آپ نے لکھا ہے جان ، مال، اولاد، خویش،اقارب، دوست سب جماعت کے حوالے کردینا ہوگا، (امیر کے ہاتھ پر) یہی تو جہاد کی بیعت ہے۔اور ایسی جہاد کی بیعت بحکم رسول امین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف امام سیاست جس کے ہاتھ میں اقتدار اور حکومت ہو لے سکتا ہے، او ربیت المال بھی وہی امام قائم کرنے کا مجاز ہے، نہ کہ طاغوت کا غلام اور محکوم (مودودی صاحب)

مودودی:

اچھا تو ایسی بیعت میں کیا حرج ہے؟

محمد صادق:

سب سے بڑا حرج تو یہ ہے کہ ایسا کرنے والا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نافرمان ہے، کتاب وسنت کا مخالف ہے، کیونکہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف وہ جہاد کی بیعت لیتا ہے، اور اپنی اطاعت دوسروں کے لیے واجب کہتا ہے، اور بیت المال قائم کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناراض کرتاہے۔ جب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں ناراض ہوجائيں تو اس سے بڑا اور کیا حرج ہے۔

ایک بات اور توجہ سے سنیں۔

مرزا بشیر گدی نشین کہتا ہے:

 میں امیر ہوں میری اطاعت واجب ہے، میرے بیت المال میں سب زکوٰۃ دو۔

 لاہوری پارٹی کا مولوی محمد علی کہتا ہے :

 میں امیر ہوں، میری اطاعت واجب ہے، میرے بیت المال میں زکوٰۃ دو۔

مولوی عبدالوہاب دہلوی(جماعت غرباء اہلحدیث) نے بھی یہی کہا کہ:

میں امیر ہوں، میری اطاعت واجب، اور زکوٰۃ میرے بیت المال میں میں لگے گی۔

بالکل ان امیروں کی طرح آپ بھی فرماتے ہیں:

 میں امیر ہوں، میری اطاعت واجب ہے، زکوٰۃ میرے بیت المال میں دو۔

مولانا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جو امیر برحق شریعت کی شرائط کے مطابق ہو، اس کو مسلمان امیر بنالیں، اس کے ہوتے ہوئے اگر کوئی اور امیر کھڑا ہو تو امام جہاد برحق کا فرض ہے کہ دوسرے باطل امیر کو قتل کرے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ موجودہ امارتیں جو اس وقت مع آپ کے ہندوستان میں موجود ہيں،ان میں سے کون سی امارت برحق ہے؟ اور بحکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون کون سی واجب القتل ہیں؟

مودودی:

معاف کریں! میرے پاس کوئی جواب نہیں، اور نہ جواب دوں گا۔

(ختم شد!)

حکیم صادق صاحب سیالکوٹی : کی آخری نصیحت

حکیم صاحب نے ان تین مریدوں کو جنہوں نے انتہائی کوشش سے یہ مکالمہ اور مناظرہ کرایا تھا مودودی صاحب کے سامنے کہا کہ: بھائی عبدالواحد صاحب بتاؤ، کیا کوئی کسر باقی رہ گئی ہے، دیکھ لو، مودودی صاحب تو اب کہتے ہیں: نہ میرے پاس ہے اور نہ ہی آئندہ آپ کے سوال کا جواب دوں گا۔ تین بار مریدوں کو توجہ دلائی، افسوس ان تینوں مریدوں نے یہ عہد کیا تھا کہ اگر مودودی صاحب تسلی بخش جواب نہ دے سکے تو ہم وہاں سے اٹھ کر چلے آئيں گے، لیکن برا ہو عصبیت اور دھڑا بندی (حزبیت) کا کہ ان تین مریدوں نے بھی یہی سمجھا کہ دھرم سے دھڑا پیارا رکھنا۔ اور مودودی صاحب کی شخصیت کی پرستش کرنا ہی عین ایمان ہے۔

قریب ہے یار روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر

جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستین کا

30، محرم 1322ھ مطابق 25، دسمبر 1946ع

November 20, 2017 | Uncategorized, شخصیات کا رد, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com