menu close menu

اپنے نفس پرظلم کرنا اور توبہ – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Oppression of oneself and repentance – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

اپنے نفس پرظلم کرنا اور توبہ   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: تفسير القرآن الكريم – تفسير سورة النساء ج 2 ص 198-200.

پیشکش: توحید خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اللہ تعالی فرماتا ہے:

﴿وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا﴾ (النساء: 110)

(اور جو بھی کوئی برا کام کرے، یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ تعالی سے بخشش مانگے تو وہ اللہ تعالی کو بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا)

اس آیت کریمہ کے فوائد میں سے ہے:

1- جو کوئی کسی دوسرے شخص کے حق میں زیادتی کربیٹھے پھر اللہ تعالی سےسچی توبہ کرلے تو اللہ تعالی اسے بخش دیتے ہيں۔ اس صورت میں ہمارے سامنے ایک اشکال پیدا ہوتاہے وہ یہ کہ علماء کرام تو یہ فرماتے ہیں کہ: دیوان تین قسم کے ہوں گے جن میں سے ایک وہ ہوگا جو بندوں کے آپس میں معاملات ہوں گے تو اسے اللہ تعالی نہيں بخشے گا، مگر ان نصوص کا ظاہر تو یہ ثابت کرتا ہے اگر توبہ ٹھیک ہو تو اللہ تعالی بخش دیتا ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے :

﴿وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا، يُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَيَخْلُدْ فِيْهٖ مُهَانًا،  اِلَّا مَنْ تَابَ﴾ (الفرقان: 68-70)

(اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے ،اور نہ اس جان کو قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ، اور نہ زنا کرتے ہیں ،اور جو یہ کرے گا وہ سخت وبال کو پائے گا، اس کے لیے قیامت کے دن عذاب دگنا کیا جائے گا اور وہ ہمیشہ اس میں ذلت وخواری کے ساتھ رہے گا،سوائے اس کے  جس نے توبہ کی)

حالانکہ اس آیت میں تو قتل کا بھی ذکر ہے پس اگر کوئی انسان قتل سے ایسی توبہ کرتا ہے جس میں توبہ کی شروط پوری ہوتی ہوں تو اللہ تعالی اسے بخش ہی دیتا ہے۔ اور قتل کے سلسلے میں توبہ کی شروط میں سے ہے کہ اپنے آپ کو مقتول کے لواحقین پر پیش کردیاجائے، پھر جب وہ اپنے آپ کو ان پر پیش کردے گا تو ان کی مرضی ہے کہ اسے بدلے میں قتل کریں یا اس سے درگزر کرلیں، مگر ساتھ میں اسے ندامت بھی ہو اپنے اس فعل پر، اور اپنے رب سے استغفار کرتا ہو۔ تو پھر اس صورت میں بے شک اللہ تعالی بروز قیامت مقتول کے حق کی ذمہ داری اپنے ذمے لے لیتا ہے۔کیونکہ اس صورت میں مقتول کا حق دے دینا ممکن ہی نہيں، کیونکہ وہ قاتل جس نے صحیح توبہ کی ہے  گویا کہ وہ اپنے دل میں یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ: اگر میرے اختیار میں ہوتا کہ میں اس میت کی جگہ لے لوں تو لے لیتا، لیکن میں اب اس سے زیادہ کسی کا اختیار ہی نہيں رکھتا کہ اپنے آپ کو مقتول کے لواحقین پر پیش کردوں، تو اس شخص کا ذمہ اللہ تعالی اپنے ذمے لے لیتا ہے۔

اگر کوئی کسی شخص کا مال چوری کرتا ہے تو اس نے یقیناً کسی دوسرے کے حق میں ایک برا کام کیا، پھر وہ اس سے تائب ہوگیا، تو کیا اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرمائے گا؟ جواب:  ہاں، اگر توبہ کی شروط پوری ہوتی ہوں، اور توبہ کی شروط میں سے ہے کہ صاحب مال کو اس کا مال لوٹا دیا جائے، اگر اس نے صاحب مال کو اس کا مال لوٹا دیا تو یقیناً اس نے توبہ کرلی۔ لہذا ہم کہتے ہیں: یہاں آیت کا ظاہر معنی اور جو اس کے علاوہ بھی نصوص ہيں یہ ہے کہ جب صحیح توبہ کرلی جائے اگرچہ وہ انسانی حقوق کےمتعلق ہی کیوں نہ ہو کہ جن سے خلاصی پانا ممکن نہ ہو، تو بے شک اللہ تعالی پھر بھی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔

2- بے شک انسان کی کسی گناہ سے کی گئی توبہ صحیح شمار ہوتی ہے اگرچہ وہ بار بار گناہ ہو۔ اس آیت سے یہ بات ا س طور پر ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں عموم ہے:

﴿وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ ﴾

(اور جو بھی کوئی برا کام کرے، یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر بخشش مانگے)

چناچہ یہ عام ہے اس کے لیے بھی جس سے یہ حرکت بار بار ہو یا نہ ہو۔ او ر اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت شدہ یہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے کہ فرمایا:

’’إنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ فَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ، فَقَالَ اللهُ عزوجل: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي‘‘

(بلاشبہ ایک شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ تعالی سے توبہ کرتا ہے، تو اللہ عزوجل فرماتے ہیں: میرا بندہ جانتا ہےکہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو بخشتا ہے اور اس پر پکڑتا بھی ہے، پس یقیناً میں نے اپنے بندے کو بخش دیا)۔

پھر وہ دوبارہ سے گناہ کرتا ہے، پھر تیسری بار بھی یہاں تک کہ اللہ تعالی اس سے فرماتا ہے کہ:

’’اعْمَلْ مَا شِئْتَ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ‘‘([1])

(جو چاہے کرو میں نے تمہیں معاف کردیا ہے)۔

یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالی کی پاس توبہ ثابت اور واقع ہوجاتی ہے اگرچہ گناہ بار بار ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی لیے علماء کرام فرماتے ہیں: توبہ کی شروط میں سے ہے کہ انسان پختہ عزم کرلے کہ وہ واپس سے یہ حرکت نہيں کرے گا، لہذا اگر وہ واقعی پختہ عزم کرلیتا ہےکہ واپس سے نہیں کرے گا تو اس کی توبہ بالکل صحیح ہے۔ پھر اگر (بتقاضۂ بشریت) اس سے دوبارہ وہ گناہ سرزد ہوجائے تو اس کی پہلی والی توبہ بیکار نہيں ہوجاتی۔ بلکہ پہلی والی توبہ اپنی جگہ صحیح رہتی ہے، البتہ اب اس کے ذمے ہے کہ وہ اس دوسرے گناہ کے لیے نئی توبہ کرے۔

3- معاصی وگناہ دراصل اپنے نفس پر ظلم ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿ اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ﴾

(یا اپنی جان پر ظلم کرے)

اور یہ بات قرآن کریم میں ثابت شدہ ہے اور بار بار آئی ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ﴾ (البقرۃ: 57)

(اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا لیکن دراصل وہ اپنے آپ ہی پر ظلم کیا کرتے تھے)

اور فرمایا:

﴿وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ﴾ (ھود: 101)

(اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن درحقیقت انہوں نے ہی خود اپنی جانوں پر ظلم کیا)

اور ان کے علاوہ جو نصوص ہيں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ بلاشبہ انسان اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہوتا ہے جب وہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرتا ہے۔

4- بلاشبہ کبھی انسان اپنے نفس تک کا ہی دشمن ہوتا ہے، جیسا کہ کبھی اس کے قریب ترین لوگ بھی اس کے دشمن ہوسکتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَاَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ﴾ (التغابن: 14)

(بےشک تمہاری بیویوں اور تمہارے بچوں میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، سو ان سے ہوشیار رہو)

پس آپ کو چاہیے کہ اپنےنفس تک سے خبردار رہيں کیونکہ وہ بھی بلاشبہ آپ کا دشمن ہے۔

5- بے شک اللہ تعالی اپنے بندے سے توبہ قبول فرماتا رہتا ہے اگر اس میں توبہ کی شرائط پوری ہوتی رہیں یعنی زبان حال اور مقال دونوں سے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا﴾

(تو وہ اللہ تعالی کو بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا)

پس آپ اللہ تعالی سے استغفار کریں اور اپنے استغفار (بخشش طلب) کرنے میں سچے ہوں تو عنقریب آپ اللہ عزوجل کو ضرور نہایت ہی بخشنے والا اور مہربان پائیں گے۔

 


[1] رواه البخاري، كتاب التوحيد، باب قوله تعالى: ﴿ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ﴾، حديث رقم 7068، ومسلم، كتاب التوبة، باب قبول التوبة من الذنوب وأن تكررت، حديث رقم 2758 عن أبي هريرة.

June 26, 2016 | الشيخ محمد بن صالح العثيمين, زہد ورقائق, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com