menu close menu

اپنے ملک کے علاوہ کسی دوسرے اسلامی ملک کے حکمران کے خلاف بات کرنے کا حکم – مختلف علماء کرام

Ruling regarding speaking against the ruler of another Muslim country – Various 'Ulamaa

اپنے ملک کے علاوہ کسی دوسرے اسلامی ملک کے حکمران کے خلاف بات کرنے کا حکم   

مختلف علماء کرام

ترجمہ و ترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

سوال:بعض نوجوان ان حکام پر بات کرتے ہيں جو ان کے حکام نہیں ہوتے یعنی دوسرے (اسلامی) ممالک کے ہوتے ہیں، اور اگر انہيں نصیحت کی جائے تو وہ کہتے ہیں یہ ہم پر حکام نہيں، تو ہم ایسے لوگوں کا کس طرح سے رد کریں؟

جواب:میں نے ایک ماہ پہلے سنا تھا  یہ بات ہمارے نجد میں ایک بھائی کی طرف منسوب تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں نے پھر اس کا تتبع نہیں کیا۔ بہرحال خواہ اس کی طرف یہ بات صحیح منسوب ہو یا نہيں، یہ اس دور کی ایک غلطی ہے۔ کیونکہ بلاشبہ کوئی بھی ملک ہو ضرور وہاں ایسے احمق بیوقوف ہوتے ہيں جنہيں حمیت و جوش آتا ہے۔ اسی لیے میں اس کے جواز کا قائل نہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں مفاسد مرتب ہوتے ہيں۔

مثال کے طور پر اگر ہم اپنے ملک کے حاکم کے علاوہ کسی دوسرے ملک کے حاکم کو گالی دیں اور عار دلائیں، تو اس کے نتیجے میں کوئی بھی بیوقوف، ظالم، منحرف واحمق شخص اس سے پرہیز نہیں کرے گا  کہ وہ ہمارے حکام کو گالی دے اور ان کے خلاف ابھارے، اور کبھی تو خوارج کے ساتھ ان کے منصوبوں میں شریک ہوجائے ۔

اور مفاسد کو دور کرنا ایک شرعی قاعدہ ہے۔ اور اس بارے میں ہم تفصیلی قول ایک سے زائد مجالس میں ذکر کرچکے ہيں، جن میں سے کتاب ’’ تيسير الإله بشرحِ أدلة شروط لا إله إلا الله ([1])  وغیرہ میں بھی اسے ذکر کیا ہے۔

[ویب سائٹ میراث الانبیاء سے فتوی ]

شیخ محمد بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

سوال: احسن اللہ الیکم ہم آپ فضیلۃ الشیخ سے بعض طلاب العلم اور بعض نوجوانوں کے لیے رہنمائی اور نصیحت چاہتے ہيں کہ جو بعض خلیجی ممالک کے حکام کے بارے میں کلام کرنے میں مگن رہتے ہيں اس حجت کے ساتھ کہ یہ ہمارے حکام نہيں ہیں، اور یہ ملک ہمارا ملک نہيں ہے۔ اور افسوس ہے کہ سلفی نوجوانوں کے باکثرت سیاست میں داخل ہونے اور اس میں مگن رہنے کے سبب یہ منہج  سوشل میڈیا وغیرہ پر بہت زیادہ پھیلا جار ہا ہے؟

جواب: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سوال کا جواب ارشاد فرمایا ہے اور ہمارے لیے کسی اجتہاد کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔

میری مراد وہ حدیث ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہے جو کہ بہت سے طلبہ  علم کے یہاں  مشہور ہے الحمدللہ، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ:

’’مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْصَحَ لِذِي سُلْطَانٍ فَلا يُبْدِهِ عَلَانِيَةً، وَلَكِنْ وليأخذ بِيَدِهِ وليَخْلُوا بِهِ وليحدثه فيما بينه وبينه، فَإِنْ قَبِلَ مِنْهُ فَذَاكَ، وَإِلا كَانَ أَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ‘‘([2])

(جو کوئی حاکم وقت کو نصیحت کرنا چاہتا ہو تو اسے علانیہ نہ کرے بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر، تنہائی میں لے جاکر، اپنے اور اس کے مابین نصیحت کرے۔ اگر وہ اس سے قبول کرلیتا ہے تو ٹھیک، ورنہ اس کے ذمے جو تھا اس نے ادا کردیا ہے)۔

پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ: ’’ لِذِي سُلْطَانٍ ‘‘ بالکل عام ہے کیونکہ ’’ذا ‘‘ جس کا ذکر حدیث میں جر کےساتھ ’’ لِذِي سُلْطَانٍ ‘‘ آیا ہے وہ ’’ ذو‘‘ بمعنی صاحب ہے۔ جیسے ابن مالک :  ’’الخلاصة‘‘ میں فرماتے ہيں:

من ذاك ذو ان صحبة أبان

چناچہ ’’ذو ‘‘ بمعنی صاحب ہے۔

چناچہ جس کے پاس کسی بھی صاحب سلطنت کے لیے کوئی نصیحت ہو  نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے آپ کے سلطان و حاکم کے ساتھ مقید نہيں کیا ہے، بس جسے آپ نصیحت کرتے ہيں یا ارادہ رکھتے ہيں اس کے سلطان ہونے کے ساتھ مقید کیا ہے۔تو اسے علانیہ نہ کرو۔ لہذا یہ بات خود نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بالکل واضح ہے۔ پس ایک بندے پر واجب ہے کہ وہ اس کی بجاآوری کرے اور جو اسے چھوڑتا ہے تو وہ صاحب ِہویٰ (خواہش نفس کا پیروکار) ہے۔

چناچہ یہ جو فہم آپ نے ذکر کیا ہے یہ فہم غیر صحیح ہے۔ کیونکہ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس کسی بھی  سلطنت  (حکومت) والے کے لیے کوئی نصیحت ہو یعنی  صاحب سلطنت کے لیے چاہے وہ مسلمانوں کے سلاطین میں سے کوئی بھی سلطان ہو، بہرحال ایک مسلمان پر جو اس کو نصیحت کرنا چاہتا ہے یہ واجب ہے کہ وہ اسے علانیہ نہ کرے کیونکہ اس میں بہت شر اور ضرر پنہاں ہے۔

اور اس لیے بھی کہ اصل مقصود نصیحت سے کسی غیر تک خیر کا پہنچانا ہوتا ہے،  اور پھر غیر سے دیگر غیروں تک اس خیر کا پہنچانا ہوتا ہے، جیسے آپ کا نصیحت سلطان تک پہنچانا اور اس سے خیر نکلوا کر اس کی رعیت ، عوام اور ان عام مسلمانوں تک پہنچانا کہ جو اس کے ماتحت ہیں۔ لیکن جو طریقہ سوال میں ذکر ہوا ہے وہ اس کے منافی ہے اور اس مقصود کے بھی منافی ہے۔ اگر آپ اسے اس طریقے سے نصیحت نہيں کرتے بلکہ اس کے خلاف کلام کرتے ہيں اور مشہور کرتے ہیں، تو وہ آپ سے قبول نہيں کرے گا، بایں صورت آپ ان میں سے ہوجائيں گے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ:

رام نفعا فضر من غير قصد ، ومن البر ما يكون عقوقا

اور میں ایسا کہنے والے کے سامنے ایک سوال رکھتا ہوں جو کہ خود سلطان بھی نہيں ہے، کہ کیا تم اس بات سے راضی ہوگے کہ تم یہاں سعودی میں رہتے ہو اور کوئی شخص کویت سے تمہیں برا بھلا کہے؟

بالکل نہيں، جب معاملہ ایسا ہے حالانکہ تم سلطان بھی نہيں تو پھر خود کو اس جگہ رکھ کر سوچو۔

لہذا اس تعلق سے علاقوں یا صوبوں کے فرق کرنے کا دعویٰ  غیر صحیح ہے([3]) اور عام احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ مخصوص نہيں کرتے، کیونکہ بلاشبہ کلام رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے کلام سے مخصوص کیا جاسکتا ہے۔

یہ فہم غیر صحیح ہے بلکہ بیمار سوچ ہے، لہذا ہر اس شخص پر واجب ہے  جو یہ بات سن رہا ہے کہ کلام اللہ اور کلام رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحیح طور پر فہم حاصل کرے۔

اور میں نے تو آپ کے سامنے ایک مثال بھی پیش کردی ہے کہ  یہ قائل اگر مثال کے طور پر سعودیہ میں رہتا ہے کیا وہ اس بات سے راضی ہوگا کہ کوئی انسان کویت سے اسے برا بھلا کہے؟

کیا وہ برا بھلا کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ کویت تو نہيں اور کویتی تو نہیں (اس لیے میرے لیے اس کے خلاف کلام کرنا روا ہے)۔ یہ غیر صحیح ہے اور وہ قبول نہيں کرے گا۔ ممکن نہيں کہ ایسے شخص کا وہ عذر قبول کیا جائے، وہ پھر عنقریب کل براہ راست انٹرنیٹ پر  اس کا رد کرے گا، یا اس پر اخبارات میں رد کرے گا، یا پھر اٹھ کر جب اپنے ملک لوٹے گا اور اس کے خلاف (ہتک عزت کا) دعویٰ دائر کرے گا،  یہ دعویٰ کہ اس نے مجھے برا بھلا کہا اور پروپیگنڈہ کیا، کیا اس سے یہ عذر قبول کیے جائیں  گے؟ نہيں قبول کیے جائیں گے۔

الغرض ایک بندے پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کے پاس اس طو ر پر آئے جس طرح وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کے پاس آئیں۔

میں یہ نصیحت خود اپنے کو اور اپنے تمام بھائیوں کو کرتا ہوں۔

جہاں تک اس قول کی بات ہے جو آپ نے ذکر کیا تو بلاشبہ یہ غلطی پر مبنی ہے  جو جہالت و عدم فہم پر یا پھر ہوائے نفس کی پیروی کرنے پر دلالت کرتا ہے۔

اللہ تعالی ہی سے عافیت و سلامتی کا سوال ہے۔

[شیخ کے اسی موضوع پر انٹرنیٹ پر موجود آڈیو سے ماخوذ]

شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ

سوال:  احسن اللہ الیکم، سائل کہتا ہے: کیا کسی مسلمان کے لیے جائز ہےکہ وہ کسی ایسے ولی امر پر بات کرے کہ جس کی ولایت کے تحت وہ نہ ہو، اور اس کی غلطیاں اور ظلم بیان کرے؟

جواب: واللہ! مجھے نہيں پتہ کہ لوگ ایسی باتوں میں کیوں پڑتے ہيں؟!

شرعی اصول موجود ہے کہ  جو مسلمانوں کے امور پر والی ہو عام ولایت کے ذریعے تو واجب ہے کہ اس سے زبان کو روک دیا جائے، یہ اصل ہے۔اسی طرح سے اگر کوئی مسلمانوں کے ممالک میں سے کسی ملک پر والی ہے، تو اس سے بھی زبان کو روک رکھنا واجب ہے۔

یہ جو قول ذکر کیا ہے اسے لے کر بعض لوگ دنداناتے پھررہے ہيں! اور اگر میں واضح اور کھری بات کروں تو اس وقت سے جب اخوان المسلمین کو مصر میں حکومت ملی! ورنہ تو اس سے پہلے لوگ ایسا نہيں کہا کرتے تھے۔حالانکہ اس سے پہلے بھی بعض ممالک کے حکمران نہایت برے ہوا کرتے تھے، لیکن اس وقت بھی  یہی لائق تھا کہ حکام کے خلاف زبان کو بند رکھا جائے کیونکہ اس میں بہت فساد پایا جاتا ہے۔

پھر جاکر لوگ یہ باتيں کرنے لگے کہ یہ مسئلہ  اس وقت کیسے ہوگا جب وہ میرے ملک کا حکمران نہيں ہے۔

اچھا! یہ تو ذریعہ بنتا اور دروازہ کھولتا ہے ولی امر پر طعن کرنے کا۔

میں کویت میں رہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اپنے ولی امر پر کلام کروں، تو میں مصر میں موجود لوگوں سے مطالبہ کروں کہ تم میرے حکمران پر بات کرو۔ اسی طرح سے میں سعودیہ میں ہوں اور چاہتا ہوں اپنے ولاۃ امور پر بات کروں، تو میں کویت میں موجود لوگوں سے طلب کروں کہ وہ میرے ولی امر پر بات کریں، کیونکہ ان لوگوں پر تو ہمارے ولی امر کے خلاف کلام کرنا حرام نہيں ہے!!

تو یہ ذریعہ ہے اس چیز کی طرف جو اللہ نے حرام قرار دی ہے ۔ اور ایک دوسرے پہلو سے  مسلمانوں کے مابین کینہ پروری اور بغض و حسد کو نشر کرنے کا ذریعہ ہے۔

اس کے مطابق اگر اہل کویت امارات میں ولی امر کے خلاف بولیں، اور اہل امارات سعودیہ میں ولی امر کے خلاف بولیں، تو عنقریب اس سے معاشروں میں بغض و کینہ  پیدا ہوجائے گا، اور ایک دوسرے کو گالم گلوچ کرنے لگیں گے اور بات بڑھ  کر پورے کے پورے معاشرے ایک دوسرے کو سب و شتم کرنے کا شکار ہوجائیں گے۔ اور اس میں عظیم فساد ہے۔

اسی لیے ہم کہتے ہيں  کہ  ہم پر واجب ہے کہ ہم اس شرعی اصول کو مضبوطی سےتھامے رہیں، وہ یہ کہ جو کوئی بھی مسلمانوں کے ممالک میں سے کسی ملک کا ولی امر بن جائے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اس پر اپنی زبان کو بند رکھیں۔ اگر کسی کی پاس نصیحت ہے  تو اسے چاہیے کہ شرعی اصولوں کے مطابق اس تک پہنچا دے۔

البتہ ظاہر ہے کسی جماعت پر اور کسی ولی امر پر بات کرنے میں فرق ہے([4])۔ مثال کے طور پر کوئی انسان جماعت اخوان المسلمین کے خلاف بات کرتا ہے اور اس جماعت کی بہت سی غلطیاں  اور شرعی مخالفات کی وضاحت کرتا ہے، یہ منع نہیں۔ لیکن  ممالک میں سے کسی ملک کے ولی امر کو لے کر  اس پر کلام کرے کہ ہم اس کے طور طریقے سے راضی نہیں یا اس جیسی بات تو بے شک یہ شرعی اصول کے مخالف ہے۔ واللہ اعلم۔

 


[1] اس کتاب کا ترجمہ ہماری ویب سائٹ پر موجود ہے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] کتاب السنۃ لابن ابی عاصم صححہ الالبانی 1096اس کے علاوہ یہ روایت مسند احمد اور ابن عساکر میں بھی ہے۔

[3] کیونکہ ہمارے یہاں بعض لوگ ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے اور حکومت مخالفت بات نہيں کرنی چاہیے مانتے ہوئے بھی، اپنے رہائشی صوبے کے علاوہ دوسرے صوبے کی حکومت ووزراء پر کلام کرنے کو روا سمجھتے ہیں۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[4] اس میں ان لوگوں کو بھی رد ہےجو بادل نخواستہ اطاعت ولاۃ امور کے عقیدے کو ماننا ظاہر کرتے ہیں، پھر باطل جمہوری نظام اور جماعت سازی کی اجازت  کو دلیل سمجھتے ہوئے بطور طنز سلفیوں کو کہتے ہيں   اس کا مطلب ہے کہ ہمارے حکمران کی فلاں جماعت سے وابستگی ہےتو کیا ہم  اس کے رکن بن جائيں!۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

February 1, 2018 | الشيخ عبيد الجابري, الشیخ سلیمان الرحیلی, الشیخ محمد بن ہادی المدخلی, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com