menu close menu

اپنے بچوں کے لیے اللہ تعالی کی پناہ کس طرح طلب کی جائے؟ – شیخ عبید بن عبداللہ الجابری

How to seek refuge on behalf of our children? – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

اپنے بچوں کے لیے اللہ تعالی کی پناہ کس طرح طلب کی جائے؟   

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری   حفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ میراث الانبیاء فتوی: كيف أحصن أولادي؟ هل لابد أن أضع يدي على رأسهم حين القراءة؟ أو من بعيد؟ أو ما هو الأمر أو السنة في ذلك؟

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: احسن اللہ الیکم شیخنا ، سائلہ پوچھتی ہے کہ: میں اپنے بچوں کو (اللہ تعالی کی) پناہ میں کس طرح دوں؟ کیا ضروری ہے کہ میں پڑھتے وقت ان کے سر پر ہاتھ رکھوں؟ یا پھر دور سے ہی؟ یا پھر اس بارے میں کیا امر (واجب) یا سنت ہے؟

 

جواب: اللہ تعالی آپ کے بچوں کی آپ کے لیے اصلاح فرمائے اور آپ کے لیے انہیں اپنے رضا ومحبت پر جمع رکھے، اگر وہ بول سکتے ہیں تو انہیں تعلیم دے کر خود پڑھوائیں:

’’بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ‘‘([1])

(اللہ تعالی کے نام کے ساتھ (میں پناہ طلب کرتا ہوں )کہ جس کے نام (کی برکت )سے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، نہ زمین (کی طرف )سے او رنہ ہی آسمان (کی طرف )سے، اور وہ ہر چیز کا سننے والا ہے اور ہر بات کا مکمل علم رکھتا ہے) تین مرتبہ۔

’’أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ‘‘([2])

(میں اللہ تعالی کے کامل کلمات کے ساتھ پناہ طلب کرتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا فرمائی)۔ تین مرتبہ۔

اور انہیں ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ اور معوذتین (سورۃ الفلق والناس) حفظ کروائیں۔ اور ان سورتوں کو صبح وشام تین بار پڑھنے کا انہيں عادی بنائیں۔ یہ جو کچھ میں نے آپ کو بتایا ہے یہ صبح وشام کے اذکار میں سے ہے۔

 

ہاں اگر وہ ابھی بول نہ سکتے ہوں تو آپ خود انہيں اللہ کی پناہ میں دیں یعنی آپ نیت کرلیں کہ آپ انہيں اللہ تعالی کی پناہ میں دے رہی ہیں، اور اگر نیت کے ساتھ ساتھ پناہ طلب کرتے وقت ان سب کے سروں پر ہاتھ بھی رکھ دیں  تو امید ہے کہ اس میں بھی کوئی حرج نہيں، کیونکہ ایسا کرنا توجہ کو زیادہ مرکوز کرتا ہے۔ البتہ اس بارے میں مجھے کوئی اثر تو یاد نہيں آرہا  لیکن امید ہے یعنی میں کہہ رہا ہوں کہ امید ہے بلاشبہ اس میں کوئی مضائقہ وحرج نہيں۔

 


[1] صحیح الترمذی 3388، صحیح ابی داود 5088۔

[2] مختصر مسلم 1453۔

August 29, 2015 | الشيخ عبيد الجابري, متفرقات, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com