menu close menu

اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ دہی وخیانت – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Deceiving and cheating with one's subjects – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ دہی وخیانت   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: التعلیق علی کتاب السیاسۃ الشرعیۃ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ ص 35۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ‘‘([1])

 (کوئی بھی بندہ جس کے ماتحت اللہ تعالی نے رعایا دی ہو اور وہ مرے تو اس حال میں مرے کہ وہ اپنی رعایا  کے ساتھ خیانت ودھوکہ دہی کرتا رہا،  مگر یہ کہ اللہ تعالی اس پر جنت کو حرام کردیتا ہے)۔

شیخ ابن عثیمین  رحمہ اللہ اس پر تعلیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اس سےمراد محض امام اعظم(حکمران)، اس کے نائب یا وزیر یا قوم کے بڑے ہی نہيں بلکہ ایک شخص بھی اپنے گھر والوں کے تعلق سے اس کا مخاطب ہے، کہ اگر وہ اس حال میں مرے کہ وہ ان کے ساتھ خیانت ودھوکہ دہی کا معاملہ کرتا رہا تو بلاشبہ اللہ تعالی نے اس پر جنت کی خوشبو تک کو حرام قرار دیا ہے، جو لوگ اپنے اہل وعیال میں آلات لہو ولعب کو چھوڑتے ہیں جو کہ مخرب اخلاق اورعقائد کو  تباہ کرنے والے ہیں تو بے شک یہ لوگ اپنے اہل وعیال کے ساتھ خیانت ودھوکہ دہی کرنے والے ہيں۔ اگر وہ اسی حال میں مر گئے العیاذ باللہ، تو ڈر ہے کہ ان پر جنت کی خوشبو تک حرام کردی جائے۔

ہم اللہ تعالی سے عافیت وسلامتی کا سوال کرتے ہيں۔

 


[1] صحیح مسلم 1831۔

November 14, 2018 | آداب، اخلاق وعادات, الشيخ محمد بن صالح العثيمين, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com