menu close menu

اپنی جماعت کے امراء کی بیعت کو عہد کا نام دینا – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

Considering the pledge of Ameer of Jamaat as a commitment and obligation – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

اپنی جماعت کے امراء کی بیعت کو عہد کا نام دینا

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شريط بعنوان: وقفات في المنهج الكويت 02-1423۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال:آپ کی ایسوں کے بارے میں کیا رائے  ہے جو اپنے احزاب اور طرق کے بڑوں کی بیعت کرنے کو عہد کا نام دیتے ہیں، اور یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ سیدنا خضر علیہ الصلاۃ والسلام نے بھی تو سیدنا موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام سے عہد لیا تھا کہ وہ ان سے کوئی چیز نہیں پوچھیں گے جب تک وہ خود ہی ان کے سامنے کچھ بیان نہ کریں؟

جواب: یہ جو عہد انہوں نے لیا تھا، یا پھر جو شرط تھی، بلکہ ہاں، ہم اسے عہد کہیں گے بھی نہيں بلکہ وہ شرط تھی۔ لیکن آپ اس (الفاظ کے) کھیل کی طرف دیکھیں (جو یہ لوگ کھیلتے ہيں)۔ یہ شرط تھی جو سیدنا خضر علیہ الصلاۃ والسلام نے سیدنا موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام پر لگائی تھی کہ وہ ان سے کچھ نہيں پوچھیں گے یہاں تک کہ وہ آخر میں انہیں خود ہی خبرکردیں، تو سیدنا موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس شرط کو قبول کرلیا تھا۔  پس اگر آپ مجھ پر کسی بھی کام کے حوالے سے کوئی شرط مقرر کرتے ہيں ، تو کیا اسے بیعت کہا جائے گا؟! میرے بھائیو! ذرا نظر تو کرو ان کے ایسے استدلال پر! میرے نزدیک تو حزبیوں کی جو استدلالات ہوتے ہيں وہ نصوص سے کھیلنے کے اعتبار سے تمام اہل بدعت سے فائق ہوتے ہیں۔

پس اللہ تعالی کے حضور تائب ہوجاؤ سچی توبہ کے ساتھ، اور اس بات کی حرص رکھو کہ مسلمانوں کا کلمہ مجتمع ہو۔ اور میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس جھوٹ سےا پنی جان چھڑاؤ، اور ان مغالطوں سے بھی۔ اللہ کی قسم! یقیناً انہوں نے مسلمانوں کی اولادوں کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ جو لوگ تمہاری پیروی کرتے ہيں اور تمہارے فرامین کے آگے سرجھکائے رہتے ہيں تم لوگوں نے انہیں  تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا ہے اور انہیں بالکل خس وخاشاک کی طرح فضول بناکر رکھ دیا ہے، کہ مجال ہے کہ وہ کسی دلیل پر کان دھریں، یا حجت کو مانیں، بلکہ طوطوں کی مانند اور خس وخاشاک کا ساان کا حال کرکے رکھ دیا ہے، اعوذ باللہ! پس یہ ہر ہانکنے والے کے پیچھے بھیڑ چال ہولیتے ہيں۔ اللہ کی قسم! تم لوگوں نے ان کی شخصیات کو تباہ وبرباد ومسخ کرکے رکھ دیا ہے جو تمہارے پیچھے لگتا ہے، اپنے نوجوانوں کے حوالے سے اللہ تعالی سے ڈرو، کیونکہ بلاشبہ واللہ! تم ان پر سب سے بڑے ضررونقصان آگرنے کا باعث ہو، یہاں تک کہ ان کے نزدیک جھوٹ سب سے محبوب شے بن کر رہ گیا ہے، اور سب سے بڑا جھوٹ ان کے نزدیک سب سے سچی بات بن کر رہ گئی ہے، اور اس کر برعکس سچائی اور حق ان کے نزدیک اب باطل تصور ہوتا ہے۔ پس اللہ کی پناہ! اس گڑھے سے جس میں تم لوگو ں نے انہيں لاگرایا ہے، اپنے بارے میں ہی کچھ اللہ تعالی سے ڈرو، اور بھرپور وسنجیدہ کوشش کرو کہ اپنے جوانوں کی صدق وسچائی، حق سے محبت اور باطل سے بغض، بدعات اور اہل بدعت سے خبردار کرنے اور ان سے متنفر کرنے پر تربیت کرو۔ یہ ہے صحیح تربیت۔ لیکن اس میں مداہنت برت کر اسے موم بنانا یہاں تک کہ اس درجے پر پہنچ جاتے ہيں کہ ایسی ایسی تالیفات کرڈالی ہيں جو اہل سنت پر جھوٹ اور طعن سے جبکہ جھوٹ وباطل پر مبنی اہل بدعت کے دفاع سے اٹی پڑی ہيں۔ لہذا ہم اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتے ہيں اس ذلت آمیز انجام سے ، کہ جس کے بارے میں ہم اللہ تعالی سے دعاء کرتے ہيں کہ وہ ان باطل کی طرف دعوت دینے والے قائدین اور چوپایوں کی طرح اس باطل کے گڑھے میں ان کے پیچھے گرنے والے پیروکاروں کو اس سے بچائے۔

کیونکہ اللہ کی قسم! آپ لوگ اس کا ادراک ہی نہيں رکھتے لیکن جو عاقل وبصیرت والا ہوتا ہے اور جسے اللہ تعالی نے اس مہلک مرض سے عافیت میں رکھاہوتا ہے  وہ اس کا بخوبی ادراک کرسکتا ہے، ایسا مرض  کہ وہ نوجوانوں کو جو ان جھوٹ وفجور پر قائم حزبی قیادتوں کی تابعداری کرتے ہیں ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔ واللہ! وہ اپنا حال اور انجام ہی نہيں جانتے، اس کا ادراک تو صرف وہی کرسکتا ہے جسے اللہ تبارک وتعالی نے  اس سے عافیت میں رکھا ہے  اور اسے اس مہلک مرض سے دور ہی دور رکھا ہے۔

ہم ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالی ہی سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ اللہ تعالی سے ان کے لیے دعاء کرو، اے بھائیو! ان کے لیے اللہ تعالی سے دعاء کرو کہ وہ انہيں اس گندی بیماری سے نجات دے۔ اللہ تعالی سے دعاء کرو کہ وہ انہیں اس سے شفاء دے۔ واللہ! بے شک یہ لوگ مریض ہيں بیچارے، ان مکارانہ اسالیب کی وجہ سےاپنے معاملے میں مغلوب ہيں، بیچارے ہيں، ان کے عقل بالکل بند ہیں، مکمل ماؤف ہيں، اس طور پر (دعاء ہو) کہ ان کے پاس جو بھی قوت وتوانائیاں ہیں وہ باطل کے خلاف استعمال ہوں (ناکہ حق کے خلاف)۔ کیونکہ ان کے پاس قوی استعداد ہے حق اور اہل حق کے خلاف لڑنے کی۔۔۔اور باطل کی تطبیق کی۔

January 26, 2017 | الشيخ ربيع المدخلي, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com