menu close menu

امت کے ضائع ہونے کا سبب توحید کا ضائع ہونا ہے – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

Wasting Tawheed is the reason behind the wasting of the Ummah – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

امت کے ضائع ہونے کا سبب توحید کا ضائع ہونا ہے     

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: نفحات الهدى والإيمان من مجالس القرآن- المجلس الثاني۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

چنانچہ ہم پر واجب ہے کہ ہم توحید کا خصوصی اہتمام کریں  اور اللہ کی قسم! یہ امت ضائع نہیں ہوئی اور اس پر دشمن یہود و نصاریٰ اور مجوس اور کمیونسٹ وغیرہ مسلط نہیں ہوئے مگر اسی وجہ سے کہ انہوں نے جب توحید کو ضائع کر دیا  تو اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ ذلت مسلط کر دی، اور اللہ تعالیٰ ان سے ہرگز بھی راضی نہیں ہوگا حتی کہ وہ اپنے دین اسلام ، اس اسلام کی طرف لوٹ آئیں جس پر سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  تھے ۔ فرمان نبوی ہے  :

’’إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ وَتَرَكْتُمْ الْجِهَادَ فِیْ سَبِیلِ اللہِ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ عَنْکُم حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ“([1])

(جب تم بیع عینہ(جو کہ ایک سودی معاملہ ہے) کرنے لگو  گے ، اور بیلوں کی دموں کو پکڑ کر اور محض زراعت اور کاشت کاری سے راضی ہوکر بیٹھ جاؤ گے ،اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد چھوڑ دو گے  تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط فرمائے گا، جو تم پر سے ہرگز بھی نہیں اٹھائے گا یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ)۔

تو اس وقت کیا حال ہو گا جب ان میں سے بہت سے لوگ شرک میں مبتلا ہوں ؟!

 آج دنیا میں بہت ساری دعوتیں ہیں لیکن وہ توحید کی جانب دعوت نہیں دیتیں ۔ ہر گروہ اور حزب کا اپنا ہی ایک  مبدأ ومنشور ہوتا ہے ، اور اپنا ہی منہج ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے منہج سے اور انبیاءکرام علیہم الصلاۃ والسلام   کے منہج سے ہٹ کر ہوتا ہے، جس میں وہ اس چیز کے مخالف کی طرف بلا رہے ہوتے ہیں جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہے، اور اپنے  اس منہج کے ذریعے سے وہ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے منہج کی مخالفت کررہے ہوتے ہیں۔

سیدنا نوح علیہ الصلاۃ والسلام  کو دیکھیے آپ پچاس کم ہزار سال تک صرف اور صرف توحید کی جانب دعوت دیتے رہے۔ اور یہ کہتے ہیں کہ تم سلفی لوگ اہل قبور (یعنی قبر پرستی) کے خلاف لڑتے ہو جب کہ ہم اہل  قصور( جو محلات میں یعنی بادشاہ حکمران وغیرہ  ہیں ان) کے خلاف برسرپیکار ہیں!!  تم (سلفی) تو بس اوثان (جس کی بھی اللہ تعالی کے سواعبادت کی جائے خواہ بت ہو یا مزار وغیرہ) کے خلاف جنگ کرتے ہو!  میرے بھائی  کیا آپ کی دعوت انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی دعوت سے زیادہ بڑی ہے ! (جو سلفیوں کو یہ طعنہ دیتے ہو)

اسی لیے تو ان کی کوئی مدد اور نصرت نہیں ہوتی، اللہ عزوجل کیا فرماتے ہیں  کہ:

﴿وَلَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا، سُـنَّةَ اللّٰهِ…﴾ (الفتح:22-23)

(اگر کافر تم سے لڑیں بھی  تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر کوئی اپنا دوست مدد گار نہیں پائیں گے، یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے)

یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اپنے اولیاء جو کہ اہل توحید ہیں ان کے ساتھ رہی ہے ۔ لیکن آج مسلمان  ہر جگہ لڑ رہے ہیں  لیکن اس کے نتیجے میں آپ کو سوائے شکستوں ، ذلتوں اور  عار کے کچھ نہیں دکھے گا ، ان کی مدد و نصرت نہیں ہو رہی ۔چیچنیا میں قتال کیا ، یہاں وہاں انہوں نے قتال کیا ، فلسطین میں ساٹھ سال سے لڑ رہے ہیں مگر آپ کو سوائے ہزیمتوں کے اور ذلت و رسوائی و عار کے کچھ نہیں  دکھائی دے گا ، کیوں کہ  وہ اس وعدے کے مستحق ہی نہیں جو اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیات میں  تاکید کے ساتھ ذکر فرمایا ہے  کہ:

﴿اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ﴾ (محمد:7)

(اگر تم اللہ کی مدد کرو گے (یعنی اس کے دین اور توحید کی)  تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا)

 جو وطن پرستی کی طرف دعوت دیتے ہیں اور وطن پرستی کے لیے لڑتے ہیں اور توحید کو بھول جاتے ہیں  کیا اللہ تعالیٰ ایسوں کی مدد کرے گا ؟!

 کہتے ہیں کہ نصاریٰ بھی ہمارے بھائی ہیں اور اس بات سے بھی ان کو کوئی حیاء نہیں آتی  کہنے میں کہ  : یہودیوں کی بھی دو قسمیں ہیں  ایک اصلی یہودی ہیں اور ایک صیہونی یہودی ہیں، اور جو ہمارے دشمن ہیں وہ صیہونی قسم کے یہودی ہیں وہ  ہیں، جنہوں نے ہماری زمین چھین لی ہے غصب کی ہے، تو ہم اس اساس اور بنیاد پر ان سے لڑتے ہیں قتال کرتے ہیں۔ اورکمیونسٹوں کے خلاف افغانستان میں لڑتے رہے اور ان کے ساتھ اہل توحید بھی جہاد کے لیے آئے، اور انہوں نے توحید کو نشر کیا، تو وہ الٹا اہل توحید کے خلاف ہی لڑنے لگے ، کہاں گیا جہادِ افغانی ؟ کتنے نوجوان اس میں کھپ گئے ضائع ہوئے، مگر اس کا ثمرہ اور پھل کہاں ہے؟!

روس نکل گیا اس کے بجائے مغربی ممالک آ گئے۔ اللہ تعالیٰ اس امت کی ہرگز بھی مدد اور نصرت  نہیں فرمائے گا  جب تک یہ کتاب اور سنت کا جھنڈا بلند نہیں کرتے حق وصداقت اورسنجیدگی  کے ساتھ اور توحید کا عَلم بلند نہیں کرتے،  مگر حال یہ ہو کہ ان کے  ہاں ایسے نعرے ہوں، ایسے اصول اور مبادی ہوں جو کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت دور ہوں بلکہ جاہلیت پر مبنی ہوں، تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سوائے ذلت اور رسوائی کے اور کسی چیز میں اضافے کا سبب نہیں ہو گا، اور دشمن کا ان پر مسلط ہو جانا  اور انہیں ذلیل کرنا اس کے سوا انہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ:

’’حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ‘‘

(یہاں تک کہ  تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ)۔

اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین وہ اسلام ہے جو انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام لے کر آئے اور خاتم الانبیاء والمرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے ہیں نہ کہ جو المرغنیہ  یا نقشبندیہ یا اس جیسے گمراہ طرق وغیرہ سے آیا ہے ۔ اللہ کا دین حق ہے اور یہ وہی دین  ہے جس سے تمسک اختیار کرنا واجب ہے مسلمانوں پر ، واجب ہے کہ ہم اس حقیقت کو جانیں اچھی طرح سے۔ اور یہ بات بھی ضروری ہے کہ ہم ان لوگوں کو اس حقیقت کی پہچان کروائیں، آشکارا کریں اور اس سے تمسک اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ کی قسم ! اگر وہ اللہ  کے دین کی طرف پلٹ آئیں تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کی مدد فرمائے گا  یورپ کے خلاف ، امریکہ کے خلاف  اور تمام ممالک کے خلاف :

﴿هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ  ۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ ﴾ (التوبہ:33)

(وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے اپنے اس رسول کو ہدایت  اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے تمام ادیا ن پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین بُرا ہی کیوں نہ مانیں)

اس قسم کے لوگ مدد و نصرت کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جیسا کہ اصحاب محمدﷺ تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب فرما دیا تھا:

﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ  ۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا، يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا﴾ (النور:55)

(اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے کہ انہیں ضرور بالضرور زمین پر خلافت (حکومت ) دے گا جس طرح سے ان سے پہلے لوگوں کو دی تھی، اور ان کے لیے اس دین کو نافذ کر دے گا،  جما دے گا جس سے وہ ان کے لیے راضی ہے،اور ضرور بالضرور  ان کی جو خوف کی حالت ہے اس کو امن سے بدل دے گا،وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں )

تو یہ جتنی بھی صفات ہیں وہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں موجود تھیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین پر خلافت عطاء فرمائی تو وہ اسلام کے ذریعے اور اس توحید کے ذریعے دنیا کی سیادت وقیادت کرنے والے بن گئے۔اور آج روافض کو دیکھیں  جو شرک میں مبتلا ہیں اور اپنی اس حکومت کو اسلامی ریاست کہتے ہیں،کتنا کچھ شرک ان کے پاس ہے  اور کس کس قسم کے کفریات وگمراہیاں ان کے پاس موجود ہیں، اور جو گمراہ لوگ ہیں وہ اس بات کی گواہی دیتے پھرتے ہیں کہ ان کی (مثالی) اسلامی ریاست ہے، اور ان کے لیے طبل بجاتے ہیں اخوان المسلمین قسم کے لوگ کہ وہ جہاد کا عَلم بلند کرتے ہیں، جس میں حماس کی تنظیم بھی ہے ، پس وہ اس حکومت کے لیے طبل بجاتے ہیں خوشیاں مناتے ہیں جو کہ یہود و نصاریٰ سے بھی زیادہ گمراہ ترین لوگ ہیں اور قدیم تاریخ سے ہی آج کے دور تک دشمنان اسلام  کے یہ ہرکارے ہیں اور انہی کے ایجنٹس ہیں، اور بظاہر ان کے یعنی ان روافض کے اور یہود و نصاریٰ کے درمیان جو چپقلش دکھائی جاتی ہے یا جھڑپیں یہ ساری کی ساری جھوٹ درجھوٹ  پر مبنی ہیں، یہ سب تماشے مسلمانوں کو دھوکے میں رکھنے کے لیے ہیں، بظاہر دشمنی دکھاتے ہیں یہود سے  تاکہ اپنے حزب الشیطان کے وجود کو باقی رکھ سکیں جسے وہ عربی ممالک میں گمراہ کرنے کے لیے ’’حزب اللہ‘‘ نام دیتے ہیں ، اسی طرح سے ایک حماس بھی  فلسطین میں  گروہ موجود ہےو اور اس جیسے جتنے بھی اس قبیل کے گروہ ہیں  جو کہ تفرقے پر اور مسلمانوں کی  وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے اور بلاء اور آزمائش کے لیے  بنے ہوئے ہیں ۔

واجب ہے حماس کے اوپر بھی کہ وہ توحید کا جھنڈا بلند کرے اور روافض کے ساتھ تعلقات نہ رکھے، ان کا توحید سے کوئی تعلق نہیں،  نہ ہی سنت سے اگرچہ جتنے بھی بلند  و بانگ دعوے کرتے رہیں ۔ پہلے پہلی جب انہو ں نے اپنی کاروائیاں  شروع کی تو وہ  یہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ وہ سلفی ہیں، لیکن ہم اسی وقت جان گئے کہ یہ لوگ منحرف ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہی ان کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ وہ کہتے تھے کہ:  ہم طائفہ منصورہ ہیں ۔ چنانچہ جو حماس ہے اس پر واجب ہے اور تمام امت  اسلامیہ  پر واجب ہے کہ وہ اپنے اللہ تعالی کے اس دین ِحق کی جانب لوٹ آئیں جس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے ۔

سیدنا نوح علیہ الصلاۃ والسلام  کو دیکھیں کہ ہزار سال تک توحید کی جانب دعوت دیتے رہے ، سیدنا ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام  توحید کی جانب دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ ان  کی وفات ہوئی ، سیدنا موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام  اور ان کے علاوہ  کتنے انبیاء والمرسلین علیہم الصلاۃ والسلام سب کی دعوتیں اسی پر مبنی تھیں ۔ سیدنا موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام  کو دیکھیں آپ مصر میں تھے اور بنی اسرائیل فرعونیوں کی حکومت کے تحت ذلت کی زندگی گزار رہے تھے، آپ نےیہ نہیں  کہا انہیں کہ آؤ وطن پرستی یا قومیت کے لیے لڑتے ہيں ، حالانکہ انہوں نے کہا تھا کہ:

﴿قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا﴾ (الاعراف:129)

(ہمیں آپ کے آنے سے پہلے بھی اذیت دی جاتی رہی اور آپ کے آنے کے بعد بھی )

 تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام  نے انہیں وصیت کی  صبر کی، جب بھی وہ شکوٰہ شکایت کرتے تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے کہ صبر کرو،  حالانکہ وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرتے اور  ان کی عورتوں کو زندہ رکھتے۔ سیدنا موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام  نے فرعون کو بھی توحید کی جانب دعوت دی مگر اس نے اسے قبول نہ کیا، اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کےو ہاں سے  نکلنے کا ارادہ  فرمایا  تو وہ راتوں رات نکلے ، حالانکہ ممکن تھا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام ان سے مقابلہ کرتے، جہاد کرتے اور  خون بہایا جاتا ، اور یہ بھی ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ زلزلے سے فرعون اور فرعونیوں کو ختم کر دیتا لیکن اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا تھا، اللہ سبحانہ و تعالیٰ توحید کو چاہتا تھا ۔ اس کے بعد آپ دیکھیں سیدنا موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام  انہیں پیچھے  چھوڑ کر  وادی  سیناء  کی طرف نکلے اور اور بنی اسرائیل کو جہاد کی جانب دعوت دی کہ آؤ لیکن وہ اس سے پیچھے رہے اور اس پر لبیک نہیں  کہا، کیوں کہ فرعونی تربیت کے کچھ  آثار ان کے اندر اب بھی موجود تھے۔   چنانچہ انہوں نے فلسطین کو بعد میں فتح کیا  سیدنا یوشع بن نون علیہ الصلاۃ والسلام  کے ہاتھوں  جنہیں اللہ تعالیٰ نے نبی کے طور پر چن لیا تھا سیدنا موسیٰ اور ہارون علیہما الصلاۃ والسلام کے بعد ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت دیکھیں خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  تیرہ سال تک  مکہ میں رہے اور اذیتیں برداشت کرتے رہے مشرکین کی طرف سے، اور ماریں سہتے رہے  ، یہ نہیں کہا کہ آؤ انقلاب برپا کرتے ہیں تحریک چلاتے ہیں بلکہ کہا کہ:

’’اصْبِرُوا آلَ يَاسِرٍ‘‘([2])

(اے آل یاسر صبر کرو )۔

سیدنا یاسر رضی اللہ عنہ کو قید کر لیا گیا، اور آپ کی زوجہ محترمہ کو قتل کر دیا گیا ۔جب اللہ تعالیٰ نے انہیں ہجرت کا حکم دیا  اور اسلامی حکومت مدینہ نبویہ میں قائم ہو گئی  پھر جا کر انہیں قتال کا حکم دیا گیا۔

 اور آج قتال توحید کے لیے نہیں کیا جاتا ، انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام  کے دین کے لیے نہیں کیا جاتا بلکہ وطن پرستی کے لیے کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام نے توحید کی خاطر ہجرتیں کیں،  اپنا مال اور گھر توحید کی خاطر چھوڑا ،اور توحید ہی کی خاطر لڑتے رہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

’’أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ‘‘

(مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کرتا رہوں  یہاں تک کہ وہ گواہی دیں لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی)۔

چنانچہ وہ فلسطینی جو توحید پرست ہیں انہیں اذیتوں ، اہانتوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ساتھ رافضیت بھی چل رہی ہے اور نصرانیت بھی رواں دواں ہے، کیا  اس طریقے سے ریاست محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھی ؟!

ہم نے یہ جو امور یہاں پر ذکر کیے ہیں یہ اس لیے ذکر کیے ہیں کیوں کہ یہ آج کے سلگتے ہوئے موضوعات ہیں،  تاکہ ہم تنبیہ کر سکیں توحید کی اہمیت پر جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کیا ، آسمانوں اور زمین کو ، جنت اور جہنم کو  پیدا فرمایا اور اسی کی خاطر انبیاء اور  رسل علیہم الصلاۃ والسلام  کو مبعوث کیا گیا، اور کتابیں نازل کی گئیں۔ چنانچہ اس توحید الہیٰ کی اہمیت کو سمجھیے اس کا علم حاصل کریں اللہ تعالیٰ کی کتاب سے  سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، اور  آئمہ توحید کی کتاب سے  جیسا کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ  اور ابن القیم اور ابن عبد الوہاب رحمہم اللہ ۔ توحید کی تعلیم حاصل کریں،  اسی طرح دین کے جتنے امور ہیں ان کی بھی نماز ، روزہ ، زکوٰۃ  وغیرہ جتنی بھی عبادات ہیں ان تمام کی تعلیم آپ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاصل کریں، کیوں کہ یہ سب کی سب لوٹتی ہیں توحید  کی جانب ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ اس امت کی پیشانی پکڑ کر ان کو حق ، خیر اور ہدایت کی جانب رواں دواں فرمادے، اور ان کے لیے ایسے صالحین اور سچے اور موحد داعیان پیدا کرے جو مخلص ہوں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اس امت کو  باذن اللہ اس ذلت اور پستی سے نکال دے جس میں یہ مبتلا ہے۔

چنانچہ اے نوجوانو! توحید کو سیکھو اہل علم سے اور تحصیل علم کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا دو   رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

’’لَأَنْ يُهْدَى اللہُ بِكَ رَجُلاً وَاحِداً خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ‘‘

(اگر ایک شخص بھی تمہارے ہاتھوں ہدایت پا جاتا ہے  تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے )۔

تو ہم میں سے ہر کوئی کوشش کرے اپنے خاندان کی اصلاح کی اور جو ان کے ماحول میں ارد گرد لوگ ہیں بقدر استطاعت ان کی اصلاح کی کوشش کرے۔  اللہ عزوجل سے دعا ءہے کہ ہمیں اور آپ کو حق پر ثابت قدمی عطاءفرمائے اور ہمیں اور آپ کو ہدایت یافتہ لوگوں میں سے  کر لے،  بے شک میرا ربّ دعاؤں کو سننے والا ہے  ۔

وصلی اللہ علیٰ  نبینا محمد و علیٰ آلہ وصحبہ وسلم.

 


[1] أخرجه أبو داود،كتاب البيوع – باب فى النهي عن العينة (3003) عن إبن عمر رضی اللہ عنہما.

 

[2] أخرجه الحاكم (5666) عن جابر رضی اللہ عنہ.

 

May 1, 2017 | الشيخ ربيع المدخلي, توحید, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com