menu close menu

امام طحاوی رحمہ اللہ کے اس قول کہ: ’’ایمان ایک ہوتا ہے اور مومنین اس کی اصل میں برابر ہوتے ہیں‘‘ کا معنی؟ – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

 The meaning of Imaam Tahawee's (rahimaullaah) saying: "Emaan is one, and with regard to its essence all believers are equal"? – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

امام طحاوی رحمہ اللہ کے اس قول کہ: ’’ایمان ایک ہوتا ہے اور مومنین اس کی اصل میں برابر ہوتے ہیں‘‘  کا معنی؟   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: نفحات الهدى والإيمان من مجالس القرآن (المجلس الأول)۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: امام الطحاوی رحمہ اللہ کے اس قول کا کیا معنی ہے کہ: ’’الإیمان واحد وأهله فی أصله سواء؟ ‘‘ ( ایمان ایک ہوتا ہے اور اس کے اہل (یعنی اہل ایمان) اس کی اصل میں برابر ہیں)؟

جواب: واللہ میرا یہ گمان ہے کہ اس عبارت کا  کچھ تعلق ہے ارجاء کے ساتھ۔ کیوں کہ ایمان کے تو اصول ہوتے ہیں اور اس کی فروع ہوتی ہیں۔  اور  لوگوں کا ایمان کے تعلق سے بہت زیادہ باہمی تفاوت ہوتا ہے( یعنی ایمان میں کم اور زیادہ ہوتے ہیں)۔  چناچہ امام الطحاوی رحمہ اللہ  کا یہ قول مرجئہ کی جو ایمان کی تعریف  ہے اس کے گرد ہی گردش کرتا ہے، کہ وہ  کہتے ہیں کہ ایمان تصدیق کا نام ہے۔  یعنی تمام کے تما م لوگ مشترک ہیں اس میں برابر ہیں ان کے نزدیک ، اور اعمال  میں ایک دوسرے میں فرق وتفاوت نہيں، لہذا اپنے اس قول کے ذریعے وہ اہل  السنۃ  کی مخالفت کرتے ہیں۔  کیوں کہ اہل  السنۃ کے نزدیک ایمان، قول عمل اور اعتقاد کا نام ہے  جو اطاعت و فرماں برداری سے بڑھتا ہے اور معصیت ونافرمانی سے کم ہوتا ہے ۔اور لوگوں میں  اس بارے میں تفاوت ہوتا ہے اور بعض بعض سے افضل ہوتے ہیں لیکن جو مرجئۃ الفقہاء ہیں ان کے نزدیک ایمان زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کا نام ہے۔

 پس امام الطحاوی رحمہ اللہ کا یہ فرمان: ’’ایمان کے اہل اس کی اصل میں برابر ہیں‘‘غلط ہے۔ زبان کے اور دل سے تصدیق میں تو مشترک ہیں لیکن ایمان کے سرچشمے سے بہت سے اعمال  پھوٹتے ہیں: اعضاء و جوارح کے اعمال ہیں ، دل کے اعمال ہیں، جن میں سے خوف ہے ، امید ہے ، محبت ہے ، رغبت ہے ، ڈر ہے ، توکل وبھروسہ ہے، یہ تمام قلبی اعمال بھی ایمان میں سے ہیں۔

 چنانچہ اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک ایمان قول ، عمل اور اعتقاد کا نام ہے جو نیکی کرنے سے بڑھتا ہے اور گناہ کرنے سے کم ہوتا ہے۔ جب کہ جو غالی مرجئہ ہیں جن کو کرامیہ کہا جاتا ہے  وہ کہتے ہیں کہ:  ایمان بس زبان سے کہہ دینے کا نام ہے۔ جب کہ جو دوسرے لوگ ہیں ان ہی میں سے جن کو جہمیہ کہا جاتا ہے  ان کے نزدیک: ایمان صرف معرفت کا نام ہے۔ اگر اس نے جان لیا اللہ تعالیٰ کو تو یہ اس کے لیے کافی ہے، لہذا ان کے مذہب کے مطابق تو ابلیس بھی مومن ہوا ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس جیسوں کے متعلق  فرمایا:

﴿وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ﴾ (النمل:14)

( انہوں نے اس کا انکار کیا حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے )۔

یعنی  انہیں یقین ہو چکا تھا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ربّ العالمین  ہے اور وہ تمام لوگوں کو پیدا کرنے والا ہے، اور وہی آسمانوں اور زمینوں کا ربّ ہے۔ اس پر انہيں یقین تھا جس میں کوئی شک نہیں تھا ، لیکن تکبر  نے انہیں اس بات پر ابھارا  کہ اس سے عناد، ہٹ دہری اور انکار کیا ۔

 پس مرجئہ میں سے جو جہمیہ لوگ ہیں ان کے مذہب کے مطابق تو فرعون ، نمرود اور اس جیسے جو کفار ہیں حتی کہ وہ لوگ جو ربوبیت تک سے کفر کرتے ہیں  وہ بھی ایمان میں داخل ہیں،  اور وہ بھی ان کے نزدیک مومنین ہیں، حالانکہ یہ بہت ہی کھلی گمراہی ہے ۔ چنانچہ اہل سنت نے ان پر سختی کی ان کی تکفیر کی اس خبیث مذہب کی بناء پر۔

 اور ایک دوسرے مرجئہ بھی ہیں جنہیں مرجئۃ الفقہاء کہا جاتا ہے جو کہ امام ابو حنیفہa کے اصحاب اور بعض ان کے شیوخ ہیں۔  وہ اہل السنۃ کے ساتھ اس بات میں تو مشترک ہیں کہ  ایمان زبان سے اقرار اور دل سے اعتقاد کا نام ہے لیکن جو عمل ہے وہ ان کے نزدیک  ایمان میں سے نہیں ہے۔ ہاں البتہ وہ اس چیز میں بھی اہل السنۃ کے ساتھ ہیں کہ عمل بھی ضروری ہے،اور جو کوئی وہ عمل نہیں کرتا  جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو وہ اپنے آپ کو عقوبت اور سزا کے لیے پیش کرتا ہے(یعنی وعید اس پر قائم ہے اور عذاب میں پڑنے کا خدشہ ہے)۔

پس اہل سنت کے نزدیک  ایمان زبان سے اقرار ، دل سے اعتقاد اور اپنے اعضاء و جوارح  سے عمل کا نام ہے۔ اور  اسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بہت سی آیات میں اسے ذکر کیا ہے مثلاً :

﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ، الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ ﴾ (الانفال:2-3)

(مومنین تو وہی ہیں  کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے  تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور جب اس کی آیات ان پر تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ ان کے ایمان میں اضافہ کرتی ہیں، اور وہ اپنے ربّ ہی پر توکل کرتے ہیں، وہ لوگ کہ جو نماز قائم کرتے ہیں ا ور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں)۔

چنانچہ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے  دلی اعمال کا ذکر کیا  اور اعضاء و جوارح   کے اعمال کا بھی ذکر کیا ۔ چنانچہ جو اعضاء و جوارح   کے اعمال ہیں وہ  بھی ایمان میں سے ہیں جب کہ یہ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں، اور بعض تو اتنا مبالغہ کرتے ہیں  کہ وہ دل کے اعمال کا بھی انکار کر دیتے ہیں ۔ البتہ بعض  مرجئہ جو فقہاء میں سے ہیں  وہ دل کے اعمال کو ایمان میں سے گنتے ہیں لیکن  جو بعض اعضاء و جوارح   کے اعمال ہیں جیسا کہ نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ  تو  افسوس کی بات ہے کہ ان کے نزدیک یہ  ایمان میں داخل نہیں۔ اسی لیے سلف نے ان پر انکار کیا ہے اور لوگوں کے سامنے وضاحت کی ہے کہ ایمان بلاشبہ قول ہے دل کا اور زبان کا، اور عمل بھی ہے دل کا  اور اعضاء و جوارح   کا ، اور انہوں نے خوارج پر بھی رد کیا اس بات پر کہ وہ کبیرہ گناہوں کے  مرتکب کی تکفیر کرتے ہیں۔

 چنانچہ جو خوارج ہیں وہ اس چیز میں اہل سنت  کے ساتھ ہیں کہ بلاشبہ جو ایمان ہے قول ، عمل اور اعتقاد ہے لیکن اس صورت میں وہ ان کے مخالف ہیں کہ جو عمل میں کسی کوتاہی  اور تقصیر کا شکار ہو  جیسا کہ کبیرہ گناہ کامرتکب ، وہ ان کے نزدیک کافر ہے حالانکہ  اہل السنۃ کے نزدیک یہ کافر نہیں ہے  اور اس بارے میں بہت سے نصوص ثابت ہیں  مثلاً شفاعت سے متعلق  احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں  کہ جو کبیرہ گناہ کے مرتکب ہیں وہ بھی آخر کار جہنم سے نکل آئیں گے  اور انہیں نکالنے والی چیز توحید اور ایمان ہی ہو گا ۔ 

March 25, 2017 | الشيخ ربيع المدخلي, امام ابو جعفر الطحاوی, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com