menu close menu

”اللہ ہر جگہ ہے “کہنے کا حکم؟ – مختلف علماء کرام

Ruling regarding saying: "Allaah is everywhere!" – Various 'Ulamaa

اللہ ہر جگہ ہے کہنے کا حکم؟   

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ

سوال: اس شخص کا کیا حکم ہے کہ جب اس سے پوچھا جائے کہ اللہ تعالی کہاں ہے  تو وہ کہتا ہے ہرجگہ! شرعی دلائل کی روشنی میں صحیح جواب کیا ہونا چاہیے؟

جواب: بسم الله الرحمن الرحيم، الحمد لله، صلى الله وسلم على رسول الله وعلى آله وأصحابه ومن اهتدى بهداه أما بعد:

اس شخص پرواجب ہےکہ جس سے پوچھاجائے کہ اللہ تعالی کہاں ہے؟ کہ وہ وہی جواب دے جو اس لونڈی صحابیہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے یہی سوال کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک لونڈی لائی گئی جس کا آقا اسے آزاد کرنا چاہتا تھا۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے (اس کے ایمان کا امتحان لینے کو) پوچھا کہ:

’’أَيْنَ اللَّهُ ؟ قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: مَنْ أَنَا؟ قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ‘‘

(اللہ تعالی کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا آسمان پر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: میں کون ہوں؟ کہا: آپ اللہ کےرسول  ہیں)۔

 اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے جو انہیں لے کر آئے تھے ان سےکہا:

’’أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ‘‘ ([1])

(اسے آزاد کردیں کیونکہ یہ مومنہ عورت ہے)۔

تفصیل کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں۔

 

 


[1] صحیح مسلم 540۔

November 18, 2017 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, الشيخ عبد العزيز بن باز, الشيخ محمد بن صالح العثيمين, توحید, فتوی کمیٹی - سعودی عرب, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com