menu close menu

اللہ تعالی کی گواہی – امام ابو محمد الحسین بن مسعود البغوی

Allaah Bears witness – Imam Abu Muhammad al-Hussain bin Mas’ood al- Baghawee

اللہ تعالی کی گواہی

امام ابو محمد الحسین بن مسعود البغوی رحمہ اللہ المتوفی سن 516ھ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: معالم التنزيل (تفسير البغوي) 1/420۔

پیشکش: توحید خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ تعالی فرماتا ہے:

﴿شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ وَالْمَلٰىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَاىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ ۭ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ﴾ (آل عمران: 18)

(اللہ نے گواہی دی کہ بےشک حقیقت یہ ہے کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق مگرصرف وہ ، اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے، نہیں ہے کوئی معبود حقیقی مگرصرف وہ ، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے)

اللہ تعالی کا یہ فرمانا کہ: ﴿شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ﴾ کہا گیا کہ یہ آیت  نجران کے نصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور الکلبی فرماتے ہیں: شام کے احبار میں سے دو احبار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئےتو مدینے کو دیکھ کر کہنے لگے یہ مدینہ کتنا ملتا جلتا ہے اس مدینہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو نبی آخری زمانے میں نکلیں گے؟ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی صفات سے پہچان لیا۔ انہوں نے کہا: کیا آپ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں؟ فرمایا: ہاں۔ اور پوچھا: کیا آپ ہی احمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں؟ فرمایا: ہاں میں ہی محمد اور احمد ہوں۔ انہوں نے کہا ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک بات پوچھیں گے اگر آپ نے ہمیں اس کی خبردے دی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کریں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پوچھو۔ انہوں نے کہا: ہمیں کتاب اللہ میں جو سب سے بڑی شہادت (گواہی) ہے اس کے متعلق خبر دیں؟ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی اور وہ دونوں اشخاص ایمان لے آئے۔

اور اللہ تعالی کا یہ فرمانا:

﴿شَهِدَ اللّٰهُ﴾ یعنی  اللہ تعالی بیان ووضاحت فرماتا ہے کیونکہ شہادت وضاحت ہی ہوتی ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں: اللہ تعالی نے حکم دیا (اور یہ بھی کہا گیا کہ: اللہ تعالی کو علم ہے) اور یہ بھی کہا گیا کہ: اللہ تعالی یہ علم دیتا ہے کہ بلاشبہ نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر صرف وہی۔

سیدنا ابن عباس w فرماتے ہیں: اللہ تعالی نے روحوں کو جسموں سے چار ہزار سال پہلے پیدا فرمایا۔ اور رزق کو روحوں سے چار ہزار سال پہلے پیدا فرمایا۔ پس خود اپنے بارے میں گواہی دی مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے کہ جب صرف وہ تھا نہ آسمان تھا، نہ زمین، نہ بر، نہ بحر، تو فرمایا: ﴿شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ﴾۔

اور یہ فرمان: ﴿وَالْمَلٰىِٕكَةُ﴾ یعنی فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ: اللہ کی گواہی کا مطلب خبردینا اور اعلان ہے، اور فرشتوں اور مومنین کی گواہی کا مطلب ہے اقرار کرنا۔

اور یہ فرمان: ﴿وَاُولُوا الْعِلْمِ﴾ یعنی انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام۔

اور ابن کیسان فرماتے ہیں یعنی: مہاجرین وانصار۔ اور مُقَاتل  فرماتے ہیں: اہل کتاب میں سے ایمان لانے والے علماء جیسے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھی۔  اور السدی اور الکلبی فرماتے  ہیں: یعنی تمام مومنین علماء۔

﴿ قَاىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ﴾ یعنی عدل کے ساتھ قائم ہے۔ اس آیت کا نظم کچھ یوں ہے کہ ’’شَهِدَ اللَّهُ قَائِمًا بِالْقِسْطِ‘‘ حال ہونے کے سبب منصوب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ  نَصْبٌ عَلَى الْقَطْعِ ہے۔ اور اس فرمان: ﴿ قَاىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ﴾ کا معنی ہے کہ وہ مخلوق کی تدبیر کرنے پر قائم ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: فلاں شخص فلاں کام پر قائم ونگہبان ہے۔ یعنی اس کی تدبیر کرنے والا ہے اور اس کے اسباب کی تنفیذ کرنے والا ہے۔ اور فلاں کے حق پر قائم ہے یعنی اس کی جزاء دینے والا ہے۔ اللہ تعالی مدبر ہے، رزاق ہے اور اعمال کی جزاء دینے والا ہے۔

﴿لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ﴾

(نہیں ہے کوئی معبود حقیقی مگرصرف وہ ، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے

June 14, 2017 | امام ابو محمد الحسین البغوی, توحید, قرآن وتفسیر, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com