menu close menu

الرعد کی حقیقت – مختلف علماء کرام

The reality of Ar-Ra'ad – Various 'Ulamaa

الرعد کی حقیقت

مختلف علماء کرام

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر (جمع وترتیب: میراث الانبیاء ڈاٹ نیٹ)۔

پیشکش: توحید خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

1- صحیح الادب المفرد للبخاری ص 262 میں باب ہے کہ’’إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ‘‘ (جب بجلی کی کڑک کی آواز سنیں تو کیا کہیں)۔

عکرمہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب الرعد (بجلی کی کڑک) کی آواز سنتے تو فرماتے:

’’سُبْحَانَ الَّذِي سَبَّحْتَ لَهُ‘‘

(پاک ہے وہ ذات جس کی تم نے تسبیح بیان کی)۔

اور فرماتے:

’’إِنَّ الرَّعْدَ مَلَكٌ يَنْعِقُ بِالْغَيْثِ، كَمَا يَنْعِقُ الرَّاعِي بِغَنَمِهِ‘‘

(بے شک الرعد ایک فرشتہ ہے جو بارش کو یوں ہانک کر لے جاتا ہے، جیسے چرواہا اپنے بکریوں کو)۔

شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح الادب المفرد میں ’’حسن‘‘ قرار دیا ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا:

’’أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ؟ قَالَ: مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ، بِيَدِهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ([1]) مِنْ نَارٍ، يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ، يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَ هُ اللَّهُ، قَالُوا: فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي يُسْمَعُ؟ قَالَ: صَوْتُهُ ، قَالُوا: صَدَقْتَ‘‘

(ہمیں بتائيں یہ الرعد کیا ہے؟  تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جو بادلوں پر مقرر ہے، اس کے ہاتھ میں آگ  کی تلوار ہے، جس کے ذریعے سے وہ بادلوں کو لگام دیتا ہے، انہیں وہاں ہانک کر لےجاتا ہے جہاں اللہ تعالی اسے حکم دیتا ہے۔ پھر انہوں نے سوال کیا: تو پھر وہ آواز کیا ہوتی ہے جو سنائی دیتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اس کی آواز ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا)۔

مسند احمد 2479 اور الترمذی 3117 نے اسے روایت کیا اور شیخ البانی نے السلسلۃ الصحیحۃ 4/491 میں اسے ’’حسن‘‘ قرار دیا۔

 


[1] ابن الاثیر النھایۃ 2/26 میں فرماتے ہیں: ’’المخاريق‘‘ جمع ہے ’’مخراق‘‘  کی، جو کہ اصل میں وہ لپٹا ہوا کپڑا ہوتا ہے جس سے بچے ایک دوسرے کو مارتے ہیں، یہاں مراد وہ آلہ ہے جس کے ذریعے بادلوں کے فرشتے انہیں مارتے ہانکتے لے جاتے ہیں، اور اس کی تفسیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث بھی کرتی ہے کہ: ’’البرق سوط من نور تزجر به الملائكة السحاب‘‘ (بجلی دراصل ایک نور کا کوڑا ہوتا ہے جس سے فرشتے بادلوں کو مارتے ہانکتے ہیں)۔ انتھی کلامہ۔

 

January 14, 2017 | عقیدہ ومنہج, مختلف علماء کرام, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com