menu close menu

اصلاحِ عقائد اور مخالفت شرک ہی عقل و حکمت کا تقاضہ ہے – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

The wisdom and intellect necessitate the rectification of the creeds and refuting Shirk – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

اصلاحِ عقائد اور مخالفت شرک ہی عقل و حکمت کا تقاضہ ہے

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: کتاب منھج الأنبیاء فی الدعوۃ الی اللہ فیہ الحکمۃ والعقل۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ حفظہ اللہ اپنی کتاب میں مختلف انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی توحید کی جانب دعوت اور شرک کے رد کے سلسلے میں نمونے ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔

اب ہم اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ جب انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی دعوت اپنے پہلو میں دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں سمیٹے ہوئے ہے اسی طرح انہوں نے ہر برائی سے ڈرایا ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ جب ہم دیکھتے ہیں جو قصے اللہ تعالی نے ہمارے لیے اپنی کتاب میں بیان فرمائے اور جب ہم اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت وسنت کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی دعوتِ توحید ، شرک و مظاہر ووسائل و اسبابِ شرک کے خلاف جنگ میں ان کی عمر اور دعوت کا ایک بڑا حصہ بیت گیا ۔ یہاں تک کہ یوں  لگتا ہے گویا کہ وہ بس اسی کام کو سر انجام دینے کے لئے دنیا میں تشریف لائے۔

پس کہاں ہیں ان کے سر کش اور ظالم حکمرانوں کے خلاف مواقف؟

جواب: انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام نے جو مؤقف اختیار فرمایا وہی عین حکمت وصواب اور عقل سلیم کا تقاضہ تھا۔

 کیونکہ انسانوں کی سیاست، اقتصادیات اور اجتماعیت سے متعلق خطرات کی شرک اور اس کے نقصانات کے برابر تو کجا اس کے قریب تک کی حیثیت نہیں۔ فرمان باری تعالی ہے:

﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ﴾ (النساء: 48)

(بے شک اللہ اس (گناہ) کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اور اس کے علاوہ جو (گناہ) ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے بخش دیتا ہے)

﴿ ۭاِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ﴾ (المائدہ: 72)

(بے شک جو اللہ کے ساتھ شریک کرے گا اللہ نے یقیناً اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے)

﴿وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ اَوْ تَهْوِيْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ﴾  (الحج: 31)

(اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے گویا وہ آسمان سے گر پڑا ،پھر پرندوں نے اسے اچک لیا ،یا تیز و تند ہوا نے اسے کسی دور مقام پر پھینک دیا)

تفصیل کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں۔

September 30, 2017 | الشيخ ربيع المدخلي, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com