menu close menu

اسلام میں بس ایک جماعت ہے ناکہ بہت سی جماعتیں – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

There's only one Jama'ah in Islaam not multiple Jama'aat – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

اسلام میں بس ایک جماعت ہے ناکہ بہت سی جماعتیں

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: جماعة واحدة لاجماعات وصراط واحدة لا عشرات۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب امت میں تفرقے کا ذکر فرمایا اور تمام کو جہنم کی وعید سنائی سوائے ایک جماعت کہ فرمایا:

’’لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَنْ هُمْ؟ قَالَ: الْجَمَاعَةُ ‘‘([1])

(میری امت بھی ضرور تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، پس ان میں سے ایک جنت میں جائے گا، جبکہ بہتّر (جہنم  کی )آگ میں۔ کہا گیا: یا رسول اللہ! وہ کون ہوں گے؟ فرمایا: الجماعۃ)۔

اسی طرح سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی مشہور حدیث میں فتنوں میں جماعت کو لازم پکڑنے کا حکم دیا جیسا کہ صحیح بخاری 3606 اور صحیح مسلم 1847 میں ہے کہ وہ فرماتے ہیں:

’’كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ دَخَنٌ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَمَا دَخَنُهُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَوْمٌ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏صِفْهُمْ لَنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ‘‘۔

(لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خیرکی بابت سوال کیا کرتے تھے جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شر کے متعلق دریافت کیا کرتا تھا، اس خوف سے کہ کہیں وہ مجھے پانہ لیں۔ چناچہ میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول !  ہم جاہلیت اور شر میں تھے  پس اللہ تعالی ہمارے لیے یہ خیر لے آیا ، تو کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا کہ کیا اس شر کے بعد پھر سے خیر ہوگی؟  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں لیکن اس میں دخن (دھبہ) (دلوں میں میل) بھی ہوگا۔ میں نے پوچھا: اس کا دخن کیا ہوگا؟ فرمایا: ایسی قوم ہوگی جو میری ہدایت کے علاوہ کسی اور ہدایت کو اپنا لیں گے، ان کی کچھ باتیں تمہیں بھلی معلوم ہوں گی اور کچھ منکر۔  میں نے کہا کہ کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ فرمایا: ہاں، ایسے داعیان ہوں گے جو جہنم کے دروازوں کی طرف دعوت دیں گےجو ان کی دعوت قبول کرلے گا وہ اسے جہنم واصل کروادیں گے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے ان کے اوصاف بیان کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہماری ہی قوم میں سے ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولتے ہوں گے۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں اگر میں انہیں پالوں؟ فرمایا: تم جماعۃ المسلمین اور ان کے امام کو لازم پکڑو۔ میں نے کہا: اگر ان کی کوئی جماعت ہی نہ ہو اور نہ ہی امام؟  فرمایا: تو پھر ان تمام فرقوں سے علیحدہ ہوجانا اگرچہ تجھے درخت کی جڑیں چبا کر ہی گزارا کیوں نہ کرنا پڑے، یہاں تک کہ تجھے اسی حال میں موت آجائے)۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةُ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ‘‘([2])

(تین چیزیں ایسی ہیں جن پر مومن کا دل خیانت نہیں کرتا ہے:1- اللہ تعالی کے لیے عمل میں اخلاص، 2- مسلمانوں کےحکام کے ساتھ خیر خواہی اور 3- ان کی جماعت کو لازم پکڑنا، کیونکہ بلاشبہ ان کی دعاء دوسروں کو بھی شامل ہوتی ہے اور ہر طرف سے گھیر لیتی ہے)([3])۔

اسی موضوع پر اپنی کتاب ’’جماعة واحدة لاجماعات وصراط واحد لاعشرات‘‘ (اسلام میں ایک جماعت ہے ناکہ بہت سی جماعتیں، اور ایک ہی صراط مستقیم ہے ناکہ دسیوں) میں شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ بعض مشایخ کے فتاویٰ نقل کرکے آخر میں کتاب کا خلاصہ بھی بیان فرماتے ہیں۔

سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کا فرقوں، جماعتوں اور جمعیات کے بارے میں فتویٰ

الشیخ المحدث العلامۃ محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ کا موجودہ جماعتوں اور احزاب کے تعدد سے متعلق فتویٰ

تعدد جماعت کے حکم کے متعلق کبار علماء کمیٹی کے سابق سینئر رکن فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کا فتویٰ

کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب کے سینئر رکن شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ کا

جماعتوں اور فرقوں کے تعدد کے حکم سے متعلق  فتویٰ

ان کا حکم جو اہل بدعت کا دفاع کرتے ہیں

خلاصہ

تفصیل کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں۔

 

 


[1] اسے امام ابن ماجہ نے اپنی سنن 3992 میں روایت فرمایا اور شیخ البانی نے صحیح ابن ماجہ 3241 میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

 

 

 

 

[2] صحیح ابن ماجہ 3056، صحیح ترمذی 2658۔

 

 

 

 

[3] اس بارے میں مزید تفصیل کے لیے ہمارے مقالات پڑھیں ’’الجماعۃ کا امیر ان کا حکمران ہوتا ہے‘‘، ’’جماعۃ المسلمین اور ان کے امام کا لزوم‘‘، ’’ہم کسی طور پر جماعۃ المسلمین کی مخالفت نہیں کرتے‘‘ وغیرہ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

 

 

 

July 6, 2017 | الشيخ ربيع المدخلي, الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, الشيخ عبد العزيز بن باز, الشيخ محمد بن صالح العثيمين, الشيخ محمد ناصر الدين ألباني, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com