menu close menu

اخوانی منہج اپنانے کا نتیجہ خسارہ ہی ہے – شیخ محمد ناصرالدین البانی

Ikhwanee Manhaj surely leads to destruction – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

اخوانی منہج اپنانے کا نتیجہ خسارہ ہی ہے   

فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(محدث دیارِ شام)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: من سلسلة الهدى والنور:609۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


سائل: شیخنا حفظکم اللہ، بعض داعیان ایسے ہيں جو نسبت واپنانے کے لحاظ سے عقیدے اور منہج میں فرق کرتے ہیں، پس آپ پائیں گے کہ ا س کا عقیدہ سلفی ہوگا ساتھ ہی پائیں گے کہ  دعوت الی اللہ میں اس کا منہج اخوانی تحریکی حزبی سیاسی یا تبلیغی یا اسی طرح کا کچھ ہوگا، تو کیا واقعی ان کے لیے اس کی گنجائش ہے؟

جواب: میرا نہيں خیال کہ کوئی عقیدے وسلوک کے اعتبار سے سلفی ہو تو اس کے لیے یہ ممکن رہے کہ وہ اخوان المسلمین اور ان جیسوں کے منہج کو اپناتا ہو۔ ہم اخوان المسلمین حزبی جماعت کی زندگی کو جانتے ہیں کہ ان پر نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے جس میں وہ خود اپنے لیے کچھ استفادہ حاصل نہیں کرسکے چہ جائیکہ دوسروں کو کوئی فائدہ پہنچائیں۔ اس کی وجہ یہی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ :  "جس کے پاس خود کچھ نہیں وہ دوسرے کو کیا دے گا"۔ چناچہ یہ لوگ جب سے ان کے مرشد حسن البنا : نے ان کو جمع کیا اور بس بلا تمیز سب کو جمع کرتے گئے، یعنی انہیں بس جمع کرتے گئے مگر اس قرآنی حکم کے برخلاف کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا ﴾ (النساء: 59)

(پھر اگر تم کسی چیز میں تنازع کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے)

اخوان المسلمین کا نظام اس قاعدے پر قائم ہے جس کی تعبیر میں اپنی طرف سے کرتا ہوں اور جس کا وہ انکار نہیں کرسکتے، اور اگر کوئی انکار کی جرأت کر بھی لیتا ہےتو ہمارے لیے اس پر ان کی حقیقت حال ان کے خلاف حجت ہونے کے لیے کافی ہے۔  ان کا قاعدہ ہے بس جو ہے جیسا ہے جمع کرتے جاؤ اگرچہ ان کے مابین عقیدے یا سلوک یا فقہ میں اختلافات ہی کیوں نہ ہوں، پھر اس کے بعد ان کی تہذیب کرو، یعنی پہلے بس جیسے تیسے سب کو جمع کرتے جاؤ پھر ان کی تہذیب کا سوچو۔ اسی پر ان کی دعوت ان طویل برسوں میں قائم ہے، لیکن حقیقت حال اس بات پر شاہد ہے کہ ان کے یہاں سوائے جمع کرنے کے اور کوئی چیز نہيں پائی  جاتی، ان کے یہاں وہ دوسری چیز یعنی تہذیب کے نام سے کچھ نہیں پایا جاتا ہے۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ اخوان المسلمین میں ان کے ممالک و براعظموں کے اختلاف کے باوجود کوئی فکری ربط نہيں پایا جاتا ، نہ اعتقادی ربط۔ حقیقت حال اس بات پر شاہد ہے جیسے جو مصر میں اخوان المسلمین ہيں وہ ان سے الگ ہيں جو اردن میں، اور وہ ان سے الگ ہيں جو شام میں ہيں۔ بلکہ خود شام ہی میں جنوبی اخوانی شمالی اخوانیوں سے الگ ہيں۔ اور میں یہ اچھی طرح سے جانتا ہوں کیونکہ میں خود شامی دمشقی ہوں جیسا کہ آپ جانتے ہيں۔ اور جیسا کہ کہا جاتا ہے: "اہل مکہ اس کی گلیوں سے سب سے زیادہ واقف ہوتے ہيں، اور گھر والے ہی جو کچھ گھر میں ہے اس سے سب سے زیادہ واقف ہوتے ہیں"۔ چناچہ میں جانتا ہوں کہ بلاشبہ دمشق میں جو اخوان المسلمین ہيں وہ بڑی حد تک سلفی دعوت سے متاثر ہیں اپنے عقیدے اور عبادت کے زاویے سے۔ اور اس کا سبب بالکل واضح ہے کہ سلفی دعوت دمشق میں پھر حلب میں بہت سرگرم رہی ہے۔ اور دمشق میں اخوان المسلمین کے خاندانی نظام میں   ان میں سے بعض کتاب فقہ السنۃ سید سابق کی پڑھتے ہيں، اخوان المسلمین ایسا کرتے ہیں اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ  سید سابق حسن البنا : کے خاص ساتھیوں میں سے تھے۔ اور ان کی کتاب پر حسن البنا نے مختصر الفاظ میں تقریظ بھی لکھی ہے مقدمے میں۔

چناچہ امید تو یہ تھی کہ یہ کتاب اخوان المسلمین کا فقہ کے معاملے میں دستور ہو اخوان المسلمین کے ہر ملک اور علاقے میں۔ لیکن آپ عجیب ترین بات دیکھیں گے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان کے یہاں کوئی فکری ثقافتی وحدت نہیں ہے۔ لہذا یہ کتاب  دمشق کے بعض اخوانی گروپس میں جو کہ شمال میں لڑ رہے تھے، کہتے تھے کہ اس کتاب کا پڑھانا جائز نہيں کیونکہ اس کا مؤلف وہابی ہے۔ حالانکہ اس کا مؤلف تو اخوان المسلمین کے سرغناؤں میں سے ہے بلکہ حسن البنا کے حواریوں میں سے ہے۔

الغرض اخوان المسلمین جب سے اس کا وجود ہوا ہے اس وقت سے اب تک اس فوجی نظام پر گویا کہ چل رہے کہ: اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہونا، وہی کھڑے مارچ کرتے رہنا۔ حالانکہ یہ اپنی آپ کو تحریکی کہتے ہیں اور تمام جماعتوں اور احزاب سے اس نسبت کی وجہ سے ممتاز ہوتے ہیں کہ ہم تحریکی ہیں، میں بھی کہتا ہوں ہاں تحریکی (حرکت کرنے والے) تو ہو لیکن فوجی نظام کی طرح اپنی ہی جگہ پرکھڑے کھڑے مارچ کرتے رہنا۔آپ جانتے ہیں فوجی نظام کو اپنی جگہ پر کھڑے رہو بس ٹانگوں کو ہلاؤ مگر آگے نہ بڑھو۔ تو پھر اس حرکت کا کیا فائدہ! بیکار ہے۔

لہذا میرا نہيں گمان کہ سلفیوں کی کوئی جماعت دنیا کے ممالک میں سے کسی بھی ملک میں ہو تو ان کے لیے ایسا ممکن ہو کہ وہ اخوان المسلمین کا منہج اپنائے، کیونکہ ان کا منہج تو یہ ہے جو میں نے ابھی آپ کو بتایا کہ بس جیسے تیسے سب کوجمع کرو پھر ان کی تہذیب کا سوچو پھر اس تہذیب میں سے بھی کچھ نہ ہو! اور حقیقت حال اس کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

چناچہ واقعی اگر حقیقی سلفیوں کی کوئی  جماعت خواہ بڑی ہو یا چھوٹی  اپنی دعوت میں اخوان المسلمین کا منہج اپناتے ہیں تو ان کا انجام اور لازمی انجام یہ ہوگا کہ:

﴿وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِيْنٍ﴾  (سورۃ ص: 88)

(اور یقینا ًتم اس کا حال کچھ ہی عرصے  بعد ضرور جان لو گے)

دو باتوں میں سے ایک ہوگی تیسری کوئی بات نہیں۔یا تو ناچاہتے ہوئے بھی انہیں سلفی دعوت کی گود میں واپس لوٹ کر آنا ہی ہوگا اور یہ ان کے لیے خیر ہے اور باقی رہنے والا ہے۔ یا پھر وہ اس پورے ورثے کو ضائع کردیں گے جو انہوں نے اتنے سالوں میں کمایا ہے ، اس اخوان المسلمین کے منہج کی تطبیق کرنے میں مشغول ہوکر، جو کہ یہ ہے کہ: بس جو ہے جیسے ہے جمع کرو، یکساں فکر کی اساس پر نہيں۔ تو پھر دو ہی باتیں ممکن ہیں کوئی تیسری نہيں، کبھی نہيں۔

ہم آج جانتے ہيں کہ سلفی دعوت فی زمانہ اولاً: اللہ کے فضل وکرم سے، ثانیاً: اس کی جانب دعوت دینے والے داعیان کے ذریعے بہت پھیلی ہے ، ایسی پھیلی ہی کہ اس قسم کا پھیلاؤ اسلامی معاشرہ ایک تہائی صدی  یا اس جیسے عرصے سے پہلے جانتا نہ تھا۔

اس بات کی گواہی بعض وہ سلفی دیتے ہیں جو آج سلفی دعوت کے ساتھ کلام کرتے ہیں اور شاید کہ اس میں کچھ اخوانی منہج کی آمیزش ہوتی ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ بلاشبہ اخوان المسلمین کی دعوت جب اس اساس پر قائم ہے کہ بس جمع کرو پھر تہذیب سکھانے میں سے کچھ بھی نہيں، تو اس کے مدمقابل سلفی دعوت تہذیب سکھانے کی بنیادپر قائم ہے  ناکہ جو ہے جیسا ہے بس جمع کیے جاؤ پر، اسی لیے اس دعوت کے لیے نصرت مشروط ہے اسی منہج کے ساتھ جہاں کہیں بھی وہ جاتی ہے۔ اور آج اس زمانے میں یہ غالب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سلفی دعوت اور سلفی منہج ہر جگہ اور ہر زبان پر عام ہے۔ اور بعض وہ جماعتیں جو علی الاعلان سلفی دعوت کے خلاف لڑتی تھیں اور اب تک لڑرہی ہیں باطنی اور خفیہ طور پرانہوں نے اپنی سلفیت کی سی شکل بنا کر پیش کی ہے، کیونکہ انہوں نے پایا کہ ان تحریکوں کو قبول عام حاصل نہیں ہورہا جو اسی اساس پر قائم ہیں کہ اپنی جگہ پر ٹکے رہو، نہ علم ہے نہ سلوک، نہ کوئی جدید نفع بخش چیز۔

پس میں یہ خیال کرتا ہوں کہ کوئی سلفی جماعت اگر اپنا سابقہ منہج اخوان المسلمین کے اسلوب سے متاثر ہوکر چھوڑتی ہے  اس کوشش میں کہ اپنے اردگرد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جمع کردیاجائے، تو پھر اللہ کی سنت اپنی مخلوق میں نہ بدلتی ہے نہ متغیر ہوتی ہے، میری  مراد اس سے اللہ کا یہ فرمان ہے کہ:

﴿وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا﴾  (النساء: 28)

(اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے)

تو وہ ہر کام کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، اس کی طاقت نہیں رکھتا کہ تمام شعبوں کو سنبھال لے علم کا بھی حق ادا کرے، سیاست کا، اقتصادیات اور اجتماعیت وغیرہ کا، تو ضروری ہے کہ ہر علم کا اختصاص ہو جو کم از کم فرض کفایہ میں شمار ہوتا ہے۔ اگر کوئی جماعت علم کے شعبے میں کام کررہی ہے  جسے ہم تصفیہ کا نام دیتے ہیں، یعنی اس اسلام کو پاک وصاف کرنا ہر اس چیز سے جس سے یہ بَری ہے، اور تصفیہ کے بارے میں جیسا کہ آپ ایک سے زائد بار سن چکے ہيں، اور اس کے ساتھ تربیت کو ملے لیں ان قلیل جماعتوں کی جو ان کے ارد گرد ہوں۔ کیونکہ اگر وہ اس لوگوں کو جمع کرنے وبھر دینے کے دا‏ئرۂ کار کو وسعت دیتے ہيں تو تصفیہ کی زمام کار ان کے ہاتھوں سے چھوٹ جائے گی، اور لوگوں کا جم غفیر اور بہت بڑی تعداد ان سے چھوٹتی جائے گی، کیونکہ ایک، دو، پانچ یا دس جنہيں ہم کبار علماء شمار کریں ان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ لاکھوں کروڑوں لوگوں کو صحیح علم پرپروان چڑھائیں اور ان کی صحیح تربیت کرپائیں۔

لہذا اگر وہ اپنے آپ کو بس لوگوں کو جمع کرنے میں مشغول رکھیں گے اخوان المسلمین کے منہج کے مطابق تو عنقریب وہ کتاب وسنت اور جس چیز پر ہمارے سلف صالحین y تھے کے مطابق تہذیب سکھلانے  کو کھودیں گے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ میں کسی جماعت کا کسی جماعت پر انکار نہيں کرتا کہ جو کسی فرض کفایہ کو ادا کررہی ہو، اس کا انکار نہیں کرتا  کیونکہ بلاشبہ اس کے سوا کچھ ممکن ہی نہيں۔ مثال کے طور پر میں کسی مسلمان کا اس بات پر انکار نہیں کرتا کہ وہ عربی لغت میں تخصص حاصل کرلے مگر وہ کتاب وسنت کی فقہ میں سے کچھ نہ جانتا ہو، اسی طرح اس پر انکار نہيں کرتا کہ کوئی شخص کسی اور علم میں تخصص حاصل کرلے جو کہ فرض کفایہ میں سے ہو، لیکن اس بات پر انکار کرتا ہوں کہ یہ اختصاص والے آپس میں تفرقہ کریں اور ساتھ جمع نہ ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہ کریں۔ اس کا ہم انکار کرتے ہيں، اگر ہم فرض کریں کہ اخوان المسلمین نے ان فرائض کفایہ میں سے کوئی جانب لے لی ہے اور اس میں تخصص حاصل کیا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ دوسرے گروہ سے جس نے ان کے تخصص کے علاوہ کسی چیز میں تخصص کیا ہے عداوت نہيں رکھتے، جیسا کہ خود یہ تخصص والے اخوان المسلمین سے اس وجہ سے عداوت نہیں رکھتے کہ انہو ں نے کسی دوسرے واجب میں تخصص کیا ہے، وہ تو بس لوگوں کا ایک اجتماع ہے ، اور سب کے سب اس صاف ستھرے اسلام کے تحت کام کررہے ہیں۔

مجھے بالجزم پورا یقین ہے کہ  ایک خالص اسلامی ریاست کا قیام جس کا نعرہ مشترک ہے سلفی گروہ طائفہ منصورہ اور اخوان المسلمین وحزب التحریر غیر منصورہ کے مابین! کیونکہ سنت میں (طائفہ منصورہ کی) جو صفات آئیں ہیں وہ ان(اخوانیوں)  پر منطبق نہیں ہوتیں۔ تو ایسی اسلامی ریاست کا قیام ممکن نہیں جب تک ان تمام جماعتوں میں تعاون نہ ہو، لیکن ہاں وہ تعاون کتاب وسنت اور منہج سلف صالحین کی اساس پر ہو۔ میں یہ کہتا ہوں کہ سلفی متخصص ہیں کتاب وسنت کے فقہ وفہم میں منہج سلف صالحین کے مطابق۔ اور وہ بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ اپنے ہر چھوٹے بڑے کام میں کتاب وسنت کی پیروی کریں، وہ فرق نہیں کرتے کہ فلاں کام فرض ہے، یا سنت ہے یا مستحب ہے، بلکہ اپنی استطاعت بھر یہ سارے کام ہی کرتے ہیں، برخلاف دوسروں کے کہ جنہوں نے اسی پر قناعت کرلی ہے کہ وہ ان مذاہب میں سے کسی مذہب کی  پیروی کرلیں  بنایہ جانے کہ لوگوں کا جس بات میں اختلاف ہے اس میں صواب بات کون سی ہے۔ تو یہ جو سلفی ہيں اگر یہ بھی صرف اس جانب کو لیتے ہيں پھر جو دیگر فرائض ہيں کو اگرچہ دیگر گروہوں سے تعاون کرکے ہی کیوں نہ ہو نہيں لیتے، تو یہ بھی اسی پر ہوں گے کہ اپنی جگہ ٹکے رہو۔

لہذا ضروری ہے کہ ان تمام جماعتوں میں اپنے اپنے اختصاص کے مطابق تعاون ہو، اور بلاشبہ اصلاح کے سلسلے میں وہ سب سے اہم بات جس کا اہتمام کرنا چاہیے  اس پر سلفی کاربند ہيں پوری دنیا میں اور وہ ہے اسلام کا تصفیہ یعنی اسے پاک وصاف کرنا ان چیزوں سے جو اس میں داخل ہوگئی ہيں۔ اور اس اساس پر مسلمانوں کی تربیت کرنا۔

ہم فرائض کفایہ کی ادائیگی کے منکر نہيں لیکن اس میں مبالغہ نہیں کرتے جیسا کہ دوسرے لوگ کرتے ہيں۔ پس اگر اس اساس پر جماعتیں متحد ہوجائيں، ہر جماعت اپنے اختصاص کے ساتھ دوسری جماعت  سے اپنے دائرۂ کار میں مل کر کام کریں مگر کتاب وسنت کی حدود میں جیسا کہ ہم نے ابھی شروع میں یہ بات ذکر کی کہ اللہ تعالی کا فرمان:

﴿فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا ﴾ (النساء: 59)

(پھر اگر تم کسی چیز میں تنازع کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے)

تو میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ پھر اس دن مومنین اللہ تعالی کی جانب سے ملنے والی نصرت پر خوشی منائيں گے۔  لیکن حال یہ ہو جیساکہ بہت سے اخوان المسلمین والوں کا ہے کہ کہتے ہیں: ارے بھائی یہ دعوت تو مسلمانوں میں تفرقہ ڈالتی ہے جمع نہیں کرتی، تو ہم یہ کہیں گے: تمہاری یہی رٹ اور وطیرہ ہم پہلے سے ہی جانتے ہیں۔ مشکل ہی یہی ہے کہ یہ لوگ ان لوگوں کے ساتھ تعاون کریں گے ہی نہيں کہ جو تصفیہ کے واجب کو ادا کررہے ہیں، اور انہیں تہمت دیتے ہیں کہ تم لوگوں میں تفرقہ ڈالتے ہو۔

تو بات بس یہی ہے کہ اگر تمام گروہ باہمی تعاون کریں ہر کوئی اپنے اختصاص کی حدود میں تو میں یہ یقین رکھتا ہوں  کہ یہی مسلمانوں کی کامیابی کی راہ ہے، اور انہيں اس کمزوری سے نکالنے والی ہے جس میں وہ مبتلا ہيں۔

September 29, 2017 | الشيخ محمد ناصر الدين ألباني, گمراہ فرقے, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com