menu close menu

احمد بن قاسم الغامدی کے گمراہ کن فتاویٰ کا رد – مختلف علماء کرام

Refutation of misleading Fatawaa of Ahmad bin Qasim Al-Ghamadee – Various 'Ulamaa

احمد بن قاسم الغامدی کے گمراہ کن فتاویٰ  کا رد   

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال:عبداللہ کہتے ہیں کہ سماحۃ الشیخ: بعض بہنیں ملتی ہيں  جو اپنے چہرے کا پردہ نہیں کرتیں اور استدلال کرتی ہیں کہ یہ بات شافعی اور حنفی مذہب میں موجود ہے؟

جواب از مفتئ اعظم سعودی عرب، شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ:

میری بہنوں  اور بھائیوں  میں اللہ تعالی سے اپنے اور آپ کے لیے توفیق اور راست بازی کی دعاء کرتا ہوں۔میرے بھائیوں حجاب ایک اسلامی اخلاق ہے  جس پر امہات المؤمنین اور عہد نبوی کی صحابیات رضی اللہ عنہن عمل کرتی رہيں، اور خلفائےراشدین کے دور میں بھی اور اس کے بعد سے لے کر آج تک، یہاں تک کہ  گھٹیا مغربی ثقافت نے یلغار شروع کردی۔ ورنہ تو تمام مسلمانوں کی خواتین حجاب کرتی رہی ہيں اور اس حجاب کو وہ  ایک ضروری عمل اور اسلامی اخلاق میں سے سمجھتی ہيں۔  جو یہ دعویٰ کرتے ہيں کہ حجاب کی کوئی اصل نہيں ،  اس کے خلاف لڑتے ہيں، اس کی مذمت کرتے  اور اس کا مذاق اڑاتے ہيں یہ لوگ ہدایت پر نہيں ہیں۔ ہم اللہ تعالی سے ثابت قدمی کی دعاء کرتے ہيں۔

آجکل بعض چینلز پر ایسے لوگ نمودار ہوئے ہیں جو یہ تک کہتے ہیں کہ باجماعت مسجد میں نماز پڑھنے کی کوئی اہمیت نہیں نہ قدر ومنزلت ہے، بس اپنے گھروں پر نماز پڑھو([1])۔ وہ باجماعت نماز اور گھر کی نماز کو برابر قرار دیتے ہيں۔ اپنے اس قول میں وہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کرتے ہيں۔  جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں باجماعت نماز گھر پر انفرادی پڑھی گئی نماز سے  پچیس گنا افضل ہے۔ لیکن یہ کہتے ہيں نہیں! اپنے گھر پر نماز پڑھو، یا جہاں چاہے پڑھو دونوں میں فرق نہیں۔ بلکہ بعض تو یہ کہتے ہیں نماز باجماعت کا حکم کرنا لوگوں کی شخصی زندگی میں مداخلت ہے۔ اور بعض  یوم عرفہ کی تعلق سے یہ غلط باتیں پھیلاتے ہیں کہ  غیر حاجیوں کے لیے یوم عرفہ کا روزہ رکھنے کی کوئی فضیلت نہیں، نہ ہی ا س کی کوئی اصل ہے اور نہ ہی یہ ہے وہ ہے۔۔۔اور مختلف (شاذ ومنفرد ) آراء کو نشر کرتے ہيں  کہ ہم ان کے اور لوگوں کے مابین آڑ نہیں رکھنا چاہتے (یعنی انہیں تمام مسائل سے نکلنے کے حیلے اور جواز کا علم ہو!)۔ یہ سب باتیں خیر سے روکنے والی ہیں۔

حالانکہ اس منہج (نماز باجماعت و حجاب وغیرہ)  پر سلف صالحین اور آئمہ ہدایت چلتے آئے ہیں۔تمام چینلز کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی سے ڈریں ، میں چینلز والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے بارے میں اللہ تعالی سے ڈریں  اور معاشرے کے سامنے وہ چیز پیش نہ کریں جو ان کے دین، اخلاق اور تہذیب کو بگاڑ دیں۔ صرف اس چیز کو نشر کریں جس کا علم ہو، جس کے خیر اور دین کی نصرت ہونے کے بارے میں یقین ہو۔ جبکہ ایسے لوگوں کو علم کی میز پر بٹھا دیا جائے اور وہ اصول اسلام پر بھی قدح کرنے  اور واجبات اسلام پر نقب زنی کرنے لگیں اور اسلام کے جو فضائل وامتیازات ہیں ان کی تنقیص شان کریں اور حقیر باور کروائيں، تو یہ سب غلط ہے۔ لہذا میں چینلز کے مالکان کو خبردار کرتا ہوں  کہ کہیں وہ باطل کے داعیان نہ بن جائیں۔

یہ چینلز تو فقط لوگوں کی رہنمائی کے لیے ہونے چاہیے۔ جبکہ حال یہ ہو کہ ہر روز کوئی چینل آرہا ہے  اور اسے چلانے والے ایسے لوگ ہوں کہ جو اللہ تعالی سے نہيں ڈرتے اور تقویٰ اختیار نہیں کرتے([2])۔

پس میں بھائیوں سے چاہتا ہوں کہ اس پر متنبہ ہوں اور اللہ تعالی دیکھ رہا ہے اس کا خیال کریں، اور اس فرمان باری تعالی کو یاد کریں  کہ:

﴿لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۙ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَزِرُوْنَ﴾  

(النحل: 25)

(تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ ان کے بوجھ  میں سے بھی جنہیں وہ علم کے بغیر گمراہ کرتے رہے۔ سن لو ! برا ہے وہ  بوجھ جو وہ اٹھا رہے ہیں)

اور حدیث میں بھی ہے کہ جو گمراہی کی طرف بلائے تو اسے اس کا گناہ ہوگا اور اس کی پیروی کرنے والو ں کا گناہ بھی اسے ملے گا، جبکہ ان کے گناہوں میں سے کچھ کم نہيں کیا جائے گا۔

میزبان: شیخ جیسا کہ آپ جانتے ہیں پچھلے کچھ سالوں سے  بعض ایسی آراء ظاہر ہوئی ہیں جو لوگوں کو بہت تشویش کا شکار کرتے ہيں  اور ایسی باتوں کو جو لوگوں کے نزدیک دین میں مسلمہ ہیں اور شک کی گنجائش نہيں اسے متزلزل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  اور آپ کی طرف سے اور کبار علماء کمیٹی کی طرف سے بھی کچھ ماہ پہلے اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ اس قسم کے امور کا سدباب کیا جائے۔ اور ایسے لوگوں کو جو صحیح علم کے حاملین نہيں  اجازت نہ دی جائے کہ وہ اس قسم کے انوکھے فتاویٰ  کے ذریعے لوگوں میں افراتفری پھیلائیں، لہذا آپ سماحۃ الشیخ اور کبار علماء کمیٹی اس تعلق سے کیا پیش کرنا چاہتے ہیں؟

جواب:  اللہ انہیں ہوش دے  اور وہ اپنی اس غلطی کو جان لیں۔ ایسے لوگ ہیں کہ جو علم کی طرف منسوب ہوتے ہیں  لیکن علماء نہيں ہوتے، اور علم کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ اس سے محروم ہوتے ہیں۔ لیکن  ان کے دل میں مرض ہوتا ہے، اور مشہوری چاہتے ہیں،  تو وہ ایسے امور جو مسلمانوں کے یہاں بالکل دلوں میں راسخ اور مسلمہ ہيں  اس کے درپے ہوتے ہیں۔ جیسے نماز باجماعت کا مسئلہ ہی لے لیں، آخر یہ مساجد پھر کیوں بنائی جاتی ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ  ۙ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ، رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَاِقَامِ الصَّلٰوةِ وَاِيْتَاۗءِ الزَّكٰوةِ  ۽ يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ﴾  

(النور: 36-37)

(ان گھروں میں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ وہ بلند کیے جائیں اور ان میں اس کا نام ذکر کیا جائے، اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ان میں صبح و شام، وہ مرد جنہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ کوئی تجارت غافل کرتی ہے اور نہ کوئی خریدو فروخت، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی)

اور فرمایا:

﴿اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ﴾

(التوبۃ: 18)

(اللہ کی مسجدیں تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لاتا اور نماز قائم کرتا اور زکوٰۃ ادا کرتا ہے، اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا)

لہذا اگر ہم جماعت کو معطل کردیں گے اور کہیں گے گھر پر پڑھنا یا جماعت میں برابر ہے تو ہم اپنے درمیان سے ایک عظیم دینی شعیرے سے محروم ہوجائيں گے۔یہ بہت ہی خطرناک معاملہ ہے۔ کوئی ایسا غلط شخص آئے اور کہے یہ اختلاف لوگوں سے مخفی تھا میں اس  کی تجدید کے لیے آیا ہوں، اس ملک میں ہم جس فطرت  اور صحیح عقیدے پر  ہیں اسے بدلنا چاہے ۔ یہ ملک ایک صالح دعوت  پر قائم ہے جسے مصلح شیخ محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ نے قائم فرمایا۔  اور اسلامی بادشاہوں  کی سرپرستی میں اللہ ان کے فوت شدگان کی مغفرت فرمائے  اور جو باقی ہيں ان کی اصلاح فرمائے۔ یہ سب کے سب  سیدھے منہج اور صراط مستقیم پر ہیں، ا س پر چلنے کی کوشش کرتے ہيں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم  اور اچھے طور پر ان کی پیروی کرنے والے چلے تھے۔ ہم پر واجب ہے کہ ہم اسے مضبوطی سے تھامے رہیں۔ اور ان کے ہاتھوں کو روکیں  جو شذوذ (انوکھے منفرد مسائل و آراء)  اختیار کرنا اور سیدھے منہج سے نکلنا چاہتا ہے۔

اللہ تعالی سے توفیق اور راست بازی کا سوال ہے۔

(مفہوم: برنامج : مع سماحة المفتي ، الجمعة 26-2-1433 هـ , رد المفتي على احمد الغامدي)

اسی طرح سعودی ٹی وی فتاویٰ  کے پروگرام میں ایک دوسرے فتویٰ میں  فرماتے ہیں:

حجاب اسلامی اخلاق میں سے ہے اور امہات المؤمنین اور ان کے بعد کے تمام مسلمان خواتین کرتی آئی ہيں۔ پھر یہ آیت پڑھی:

﴿يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ﴾   (الاحزاب: 59)

(اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں،  یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں تکلیف نہ پہنچائی جائے)

اسی طرح اللہ تعالی نے جو شریعت میں اس عورت کے چہرے کو دیکھنے کی اجازت دی ہے جس  کے پاس رشتے کا پیغام بھیجا ہو، جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس میں اجازت کا ملنا دلیل ہے کہ اصل حکم چہرے چھپانے کا ہے، لہذا اس صورت میں اجازت الگ سے دی گئی ہے۔

سوال: آج کی مجلس کا تیسرا سوال، شیخ ہمارے یہاں ایک شخص نمودار ہوا ہے جس کا نام احمد بن قاسم الغامدی ہے جو سوشل میڈیا اور ٹی وی پر حجاب  کو اتار دینے کی دعوت دیتا ہے اس حجت کے ساتھ کہ اس بارے میں کتاب و سنت میں کوئی نص نہیں۔ اور یہ گمان کرتا ہے کہ یہ صرف امہات المؤمنین کے ساتھ خاص تھا۔ بلکہ وہ باقاعدہ ایک چینل پر اپنی بیوی کو ننگے چہرے اور میک اپ کے ساتھ لایا اور کہا دیکھو میں اپنے فتویٰ کو اپنی گھر والی پر لاگو بھی کرتا ہوں۔  اور اس کے پیروکار ہيں جو اسی چیز کی طرف بلاتے ہيں جس کی طرف یہ بلاتا ہے اور ہمارے علماء پر تشدد کی تہمت لگاتے ہیں جبکہ غامدی ان کے نزدیک عدل وانصاف والا علامہ ہے جو دین میں میانہ روی پر چلتا ہے۔ پس ہم آپ سے اس شخص کی ان بکواسوں کا رد چاہتے ہیں کیونکہ یقینا ً اس کی وجہ سے عوام کے مابین فتنہ ہورہا ہے؟

جواب از شیخ عبید الجابری حفظہ اللہ:

اللہ تعالی ہی سے عافیت کا سوال ہے۔ یہ شخص سب سے پہلے  تو مرد وزن میں اختلاط کا فتویٰ دیتا رہا یعنی بالکل مطلق فتویٰ یا ایسے مطلق دعوے کیے جو آزاد خیالی کی تحریک والے کرتے ہيں۔ پس جس نے رد کیا اس کا سو کیا۔ ہم نے سوچا شاید کہ معاملہ یہاں تک ہی رہے۔

لیکن اب تو یہ داعی  اپنی اس حرکت سے فسق وفجور کی طرف کھلی دعوت دینے والا بن گیا، برائی کا داعی۔ لہذا واجب ہے کہ اس سے تحذیر (خبردار) کیا اور اس کا بائیکاٹ کیا جائے۔  وہ اپنے اس فتویٰ میں جھوٹا ہے کیونکہ محققین اہل علم و تقویٰ و تحقیق  کا اس بات پر اجماع ہے کہ بے شک حجاب  ہر مسلمان عورت پر عام فرض ہے ، اور جو امہات المؤمنین کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ اس عام میں سے کہ جس کے بارے میں اہل علم کہتے ہیں:

العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب

 (اصل اعتبار لفظ کے عموم کا ہوتا ہے ناکہ سبب کے خصوص کا)۔

تو وہ کہتے ہيں امہات المؤمنین کو حجاب کا حکم دراصل  تمام مسلمان عورتوں کو حکم ہے۔

اور جب امہات المؤمنین جیسی عظیم اور پارسا شخصیات کو اس کا حکم ہے جبکہ ان کی  اس زمانے میں پاکبازی و عفت مشہور و معروف تھی، تو پھر جو ان سے کم تر خواتین ہیں انہیں تو باالاولیٰ منع ہوناچاہیے۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہ شخص جھوٹا اور فتنےمیں مبتلا ہے، برائی کی طرف دعوت دینے والا ہے جس سے غیرت ختم ہوچکی ہے۔ اگر وہ فتویٰ دے بھی دیتا  اور اپنے اس فتویٰ کو ہی بس ظاہر کرتا تو بھی معاملہ کچھ ہلکا ہوتا، لیکن بڑی مصیبت تو یہ ہے کہ وہ باقاعدہ اپنی بیوی کو بے حجاب و میک اپ میں لے کر (ٹی وی پر) آگیا، کیا ایسا وہ شخص کرسکتا ہے جو اپنے محارم کے لیے غیرت رکھتا ہو؟!

اللہ تعالی ہی سے عافیت کا سوال ہے۔

(ویب سائٹ میراث الانبیاء:  اللقاء السادس عشر من لقاءات الجمعة مع فضيلة الشيخ عبيد الجابري والذي كان 27 صفر 1436هـ)

 


[1] یہ فتویٰ اور اس سے پہلے حجاب والا اسی شخص احمد بن قاسم الغامدی کا ہے، اس کے علاوہ حال ہی میں ویلنٹائن ڈے کے حق میں بھی فتویٰ دے چکا ہے کہ یہ ثقافتی تہوار ہے لہذا منانے میں کوئی حرج نہيں۔ اس جیسے فتنہ باز اور بھی ابھرتے رہتے ہيں جیسے عادل الکلبانی وغیرہ۔ اور سعودی کبار علماء کمیٹی اور دیگر علماء حق ایسوں کا رد فرماتے رہتے ہيں۔ اللہ تعالی امت کو ان سے محفوظ رکھے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] ہمارے یہاں بھی چینلز پر خودساختہ علماء بناکر ظاہر کیا جاتا ہے، پھر عوام ان سے رہنمائی لینے کی کوشش کرتی ہے نتیجۃ ًگمراہی میں جاپڑتی ہے، ایسے فتنہ باز لوگوں کو جو منکرین حدیث اور بہت سے دینی احکام  کے خلاف اسی طرح کی تاویلات و حیلے کرکے انتشارو گمراہی پھیلاتے ہیں لوگوں کے لیے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے جیسے غامدی ، عامر لیاقت حسین  و مفتی عبدالقوی اور آن لائن استخارہ والے عامل، نجوی و فنکار وغیرہ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

February 17, 2018 | الشيخ عبيد الجابري, الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ, شخصیات کا رد, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com