menu close menu

اجارہ کا حکم جس کی انتہاء پر ملکیت مل جاتی ہے؟ – مختلف علماء کرام

Ruling regarding lease or rent to own? – Various 'Ulamaa

اجارہ کا حکم جس کی انتہاء پر ملکیت مل جاتی ہے؟   

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

مجلس کبار علماء کمیٹی نے اپنے49 تا 51 وے دورے میں اس موضوع ’’الإيجار المنتهي بالتمليك‘‘ کے تعلق سے متعدد سوالات جو وزارت عامہ برائے علمی تحقیقات وافتاء کو موصول ہوئے تھے کے پیش نظر اس موضوع  کو اچھی طرح سے پڑھا اور تحقیق کی، اور بطور خاص اس موضوع پر جن متعدد محققین  نے ریسرچ تیار کی تھیں ان کا بھی مطالعہ کیا۔

 

پھر اپنے 52وے دورے  جس کا آغاز بتاریخ 29/10/1420ھ ریاض میں ہوا ، اسی موضوع  کی تحقیق کا پھر سے آغاز کیا گیا، بعدازیں کافی تحقیق ومناقشے کے بعد مجلس اکثریت کے اعتبار سے اس نتیجے پر پہنچی کہ بے شک یہ عقد مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر شرعی طور پر جائز نہيں:

 

اولاً: اس میں بعینہ ایک چیز پر دو عقد(transaction) کو جمع کیا گیا ہے، اور ان دو میں سے کسی ایک پر اتفاق نہیں کیا حالانکہ یہ دونوں حکم میں مختلف ہيں اور باہم متنافی ہیں۔

پس جو بیع (فروخت) ہوتی ہے اس سے یہ واجب آتا ہے کہ جس بعینہ چیز کی بیع ہے وہ اپنے منافع سمیت مشتری (خریدار) کو منتقل ہوجائے۔ اس صورت میں بیچنے والے کے لیے اجارہ (کرائے/لیز) کا معاہدہ کرلینا صحیح نہیں، کیونکہ بلاشبہ اب تو یہ خریدار کی ملکیت ہے۔

جبکہ اجارہ سے یہ واجب ہوتا ہے کہ اس بعینہ چیز کا صرف منافع کرایہ دار کو منتقل ہو۔ اور بیچنے والا خریدنے والے  کو اس بعینہ چیز کا اور اس کے منافع کا ضامن وذمہ دار بناچکا ہوتا ہے، لہذا اس بعینہ چیز کا اور اس کے منافع کا تلف ہونا اسی کے سر ہے۔ اس میں سے کوئی بھی چیز یا ذمہ داری بیچنے والے کی طرف نہيں لوٹتی۔  جبکہ کرائے پر دی گئی بعینہ چیز کرائے پر دینے والے کی ضمانت وذمہ داری میں ہے، لہذا اس کا بعینہ اور منافع کا تلف ہونا اسی کے سر ہے، الا یہ کہ کرائے دار سے  کوئی زیادتی یا کوتاہی ہوئی ہو۔

 

ثانیاً: اس کا کرایہ سالانہ یا ماہانہ طے ہوتا ہےجو اس چیز کے معاہدے میں طے شدہ قیمت کی قسط کے بقدر بنتا ہے۔  بیچنے والا اسے کرایہ گنتا ہے اپنے حق کی یقین دہانی کے لیے تاکہ خریدار کے لیے اسے بیچنا ممکن نہ ہو۔

اس کی مثال: اگر بعینہ چیز کی قیمت پچاس ہزار ریال ہو اور اس کا ماہانہ کرایہ ہزار ریال بنے تو وہ حسب عادت اس سے دوہزار لیتاہے۔ جو کہ درحقیقت اس چیز کی قیمت کی قسط بنتی ہے  یہاں تک کہ مکمل مقرر کی ہوئی قیمت پوری ہوجائے۔ اگر اس کے لیے مثال کے طور پر آخری قسط دینا مشکل ہوجاتاہے  تو اس سے وہ چیز بعینہ ضبط کرلی جاتی ہے، اس اعتبار سے کہ یہ تو کرائے پر تھی اور جتنی ادائیگی اس سے لے لی گئی ہوتی ہے اس میں سے کچھ واپس نہيں ملتا اس بنیاد پر کہ تم اس سے منفعت حاصل کرتے رہے ہو۔ اور اس میں جو ظلم ہے اور کسی کو قرضہ لینے پر مجبور کرنا تاکہ آخری قسط  دے سکے کسی پر مخفی نہیں۔

 

ثالثاً: بلاشبہ یہ عقد اور اس جیسے دوسرے عقود  فقراء کو قرضوں کے معاملے میں تساہل وسستی کی طرف لے جائيں گے یہاں تک کہ ان میں سے بہت سوں کے ذمے تھکا دینے والی ادائیگی پڑی رہیں گی۔ اور ہوسکتا ہے یہ بعض قرض دینے والوں کو ہی افلاس کی طرف لے جائيں اس طرح کہ ان کے بہت سے حقوق جو فقراء کے ذمے ہوں ضائع ہوتے جائيں۔

 

لہذا مجلس یہ رائے رکھتی ہے کہ عقد کرنے والے فریقین کو چاہیے کہ وہ صحیح طریقہ استعمال کریں اور وہ یہ ہے کہ چیز کو بیچ دیا جائے  پھر اس کی قیمت پر رہن دے دیا جائے، اور اپنے لیے احتیاط اپناتے ہوئے اس عقد کے معاہدے اور گاڑی کے کاغذات وغیرہ اپنے پاس رکھے۔

 

والله الموفق .

وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم .

 

هيئة كبار العلماء:

رئيس المجلس

عبدالعزيز بن عبدالله بن محمد آل الشيخ .

صالح بن محمد اللحيدان .

راشد بن صالح بن خنين .

محمد بن إبراهيم بن جبير . آپ کا نظریہ اس قرار دار کے مخالف تھا.

عبدالله بن سليمان بن منيع . میرا نظریہ بھی اس قرار دار کے مخالف ہے.

عبدالله بن عبدالرحمن الغديان .

د/ صالح بن فوزان الفوازان .

محمد بن صالح العثيمين .

عبدالله بن عبدالرحمن البسام . اس عقد کی حرمت سے موافقت نہیں رکھتے.

ناصر بن حمد الراشد .

محمد بن عبدالله السبيل .

د/ عبدالله بن محمد بن إبراهيم آل الشيخ .

محمد بن سليمان البدر .

عبدالرحمن بن حمزة المرزوقي .

د/ عبدالله بن عبدالمحسن التركي .

محمد بن زيد آل سليمان .

د/ بكر بن عبدالله أبو زيد .

حسن بن جعفر العتمي .

د/ عبدالوهاب بن إبراهيم أبو سليمان .

د/ صالح بن عبدالرحمن الأطرم . اپنے مرض کی وجہ سے حاضر نہ ہوسکے۔

 

سوال: کیا  نئی گاڑی ’’الإيجار المنتهي بالتَّمليك‘‘ پر لی جاسکتی ہے؟

 

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ:

’’الإيجار المنتهي بالتَّمليك‘‘ میں یہ خدشہ ہے کہ پہلے مستفید ہونے والے پر ضرر ہوگا کیونکہ وہ بلاشبہ آپ کو ماہانہ کرائے پر دیتے ہیں، اور اگر آپ ان کے اس کرائے جو وہ آپ سے لیتے ہیں اور اس کرائے میں جو اس قسم کا معاملہ نہ کرنے والوں سے لیتے ہیں  موازنہ کرین گے تو آپ کو ان کے مابین بہت عظیم فرق ملے گا۔ پس آپ کے علاوہ جو ہیں انہیں وہ ہوسکتا ہے دن کے دوسو ریال پر دیتے ہوں لیکن آپ کو روز کے اتنے اتنے پر دیتےہوں یعنی بہت زیادہ۔ ہوسکتا ہے آپ کے علاوہ کووہ ماہانہ ہزار ریال میں دیتے ہوں جبکہ آپ کو دوہزار ریال میں دیتے ہوں۔ یہاں تک کہ جب آپ دینے سے عاجز آجاتے ہیں تو وہ گاڑی بھی ضبط کرلی جاتی ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ مطلوبہ ادائیگی مکمل آپ نہیں کرسکے۔ تو حقیقت یہ ہے کہ ’’الإيجار المنتهي بالتَّمليك‘‘  میں کافی خطرات ہیں۔ جیسے ایک عقد کے اندر دو عقد ہونا۔ لہذا اس کو چھوڑ دینا ہے اولیٰ ہے۔

 

(فتاوی نور علی الدرب – الشراء بالايجار المنتهي بالتملك)

 

سوال: گاڑیوں کے سلسلے میں ’’الإيجار المنتهي بالتَّمليك‘‘ آجکل بہت پھیل چکا ہے اور کبار علماء کمیٹی اسے حرام قراردے چکی ہے، ہم اس بار ےمیں کچھ رہنمائی چاہیں گے، بارک اللہ فیک؟

 

جواب از شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ:

اس بات میں کوئی شک نہيں کہ اس معاملے کے حرام ہونے کا فتوی کبار علماء کمیٹی کی طرف سے صادر ہوچکا ہے جو کہ ’’الإيجار المنتهي بالتَّمليك‘‘ کے نام سے جانا جاتاہے۔ لہذا واجب ہے کہ اسی قرار داد پر عمل کیا جائے اور مخالفت نہ کی جائے۔ ان کی طرف نہ دیکھا جائے جو بعض علم کے دعویدار ہیں اور متساہل ہیں۔ یہی فتوی قابل اعتماد ہے کیونکہ یہ اس مخصوص جہت وادارے کی طرف سے صادر ہوا ہے جو فتوی صادر کرنے کی ذمہ دارہے۔لہذا جن کی فتوی دینے کی ذمہ داری نہيں اور نہ ہی وہ فتاوی کے لیے مرجع ہیں تو ان کے حق میں سے نہیں کہ وہ اس قسم کے امور میں فتوی دیں اور لوگوں کو حرج وپریشانی میں مبتلا کریں۔

 

(فتاوی نور علی الدرب  – تحريم الإيجار المنتهي بالتمليك)

January 19, 2016 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ, فتوی کمیٹی - سعودی عرب, متفرقات, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com