menu close menu

آیت ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا۔۔۔﴾ کی تفسیر – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Tafseer of the Ayah (O you who believe! Ward off from yourselves and your families a Fire …) – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

آیت ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا۔۔۔﴾ کی تفسیر

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: نور علی الدرب 15914۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: اللہ تعالی کے اس فرمان: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰۗىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ﴾ (التحریم: 6) (اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں، اس پر سخت دل، بہت مضبوط فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انہیں حکم دے،  اور جو حکم دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں) کی تفسیر بیان فرمائیں؟

 

جواب: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وصَلىَّ اللهُ وَسَلِّمْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وأصَحْابِهِ أَجْمَعِينَ.

اللہ تعالی مومنوں کو ایمان کی صفت کے ساتھ پکارتا ہے شرف اور تنبیہ کے طور پر، شرف اس طور پر کہ ان کے لیے اس ایمان کی صفت کو ذکر فرماتا ہےجواللہ کا ان پر احسان ہے۔ اور تنبیہ اس طور پر کہ مومن ہونے کے ناطے جو کچھ ان پر واجب ہے اس پر تنبیہ ہو۔ پس اللہ عزوجل فرماتا ہے:

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ﴾ یعنی  بچاؤ اختیار کرو جو تمہیں آگ سے بچا سکے۔

﴿قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ﴾ انسان محض اپنے ہی بچاؤ پر اقتصار نہ کرے بلکہ اپنے اہل وعیال کو بھی اس سے بچائے اور وہ اس طرح کہ اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت اور اس کے اوامر کی ادائیگی کا، اور اس کی منع کردہ باتوں کو ترک کرنے کا  پابند بنائےاور اپنے اہل وعیال کو بھی، اور جو کوئی بھی اس کے گھر میں ہوں ان سب کو اس کا پابند بنائے۔ چناچہ وہ انہيں اللہ سے ڈرنے کا ، اور اس کے اوامر کی محافظت  اور ادائیگی کا حکم کرے اور ممنوعہ باتوں کو ترک کرنے کا بھی حکم دے۔ یہ وہ بچاؤ ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالی کے عذاب سے بچا جاسکتا ہے۔ جس سے کوئی قلعہ یا کپڑے یا کوئی بھی چیز نہيں بچا سکتی سوائے اعمال صالحہ اور اللہ کے تقوی کے۔

 

اور یہ فرمان: ﴿ قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ﴾ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بے شک انسان اپنے اہل وعیال کا بھی مکلف ہےجو اس کے ساتھ اس کے گھر میں رہتے ہیں، بلاشبہ وہ انہیں اللہ کی اطاعت گزاری کا پابند بنائےاور اپنے گھر کو فتنوں اور ان کے اسباب سے پاک رکھے۔ اور اپنےگھر کو ان گھٹیا پروگراموں اور آلات سے جو فتنوں کی طرف لے جاتے ہیں پاک رکھے، تاکہ اس کا گھر پاک صاف رہے۔ اور اپنے گھر کو ذکر الہی سے اور اطاعت الہی سے زندہ رکھے۔ کیونکہ جس گھر میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور جس گھر میں اللہ کا ذکر نہيں کیا جاتا ان کی مثال زندہ اور مردے کی سی ہے، جیسا کہ رسول اللہ e نے فرمایا([1])۔

 

﴿ قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ﴾ اپنی بیویوں کو، اولاد کو اور جو کوئی بھی آپ کے ساتھ رہتا ہے۔ کیونکہ بے شک آپ پابند ہیں اس بات کے کہ انہيں اللہ تعالی کی اطاعت کے راستے پر ڈالیں اور انہیں اللہ تعالی کی نافرمانی سے روکیں۔ او ریہ گھر کہیں فساد کا گڑھ یا برائیوں کا مرکز بن کر نہ رہ جائے کہ جہاں برے پروگرامز چلتے ہوں۔ یہ ایک مسئولیت ہے ان گھر والوں پر جو گھر کے بڑے ہيں اور ان کے پاس کنٹرول ہے۔ یہ ایک عظیم مسئولیت وذمہ داری ہے کہ وہ اس گھر کے بارے میں جوابدے ہیں، کہ وہ ان کی حفاظت کریں اللہ کی اطاعت گزاری کرنے اور معصیت الہی کو ترک کرنے کے ذریعے، کیونکہ یہ ان کی رعایا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ، وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ‘‘([2])

(تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا، مرد اپنے گھر والوں پر نگہبان ہے، اور ان کے بارے میں جوابدے ہے، عورت اپنے شوہر کے گھر اور اولاد پر نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا)۔

 

ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس بات پر متنبہ رہے کہ بے شک وہ اپنے نفس کے بارے میں مکلف ہے، ساتھ ہی جو اس کے زیردست وحکومت ہیں ان کے بارے میں بھی مکلف ہے۔پھر وہ نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے کا بھی عمومی طور پر مکلف ہے اپنے پڑوسیوں کو بھائیوں کو۔ ایک مسلمان کی مسئولیت وذمہ داری ہے اس زندگی میں اسی طرح سے ہے۔

اللہ تعالی تمام لوگوں کو اس کام کی توفیق دے جسے وہ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہوتا ہے۔

 

وصَلِى اللهَ وَسَلِّمْ عَلَى نبَبِيْنَا مُحَمَّد .

 


[1] صحیح مسلم 779۔

[2] صحیح بخاری 151 وغیرہ۔

November 5, 2015 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, متفرقات, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com