menu close menu

آدم علیہ الصلاۃ والسلام اور عبدالحارث نام رکھنے کے تعلق سے ایک ضعیف روایت – شیخ محمد بن صالح العثیمین

 A weak narration regarding Adam (عليه الصلاة والسلام) and naming Abdul Harith – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

آدم علیہ الصلاۃ والسلام اور عبدالحارث نام رکھنے کے تعلق سے ایک ضعیف روایت   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: القول المفيد شرح كتاب التوحيد۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کتاب التوحید میں باب قائم کرتے ہیں:

ارشاد الہی ہے:

﴿فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا  ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ﴾  (الاعراف: 190)

(جب اللہ تعالی نے انہیں صحیح و تندرست بچہ دیا تو انہوں نے اس عطاء میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا دیا۔ پس اللہ تعالی اس سے بہت بلند ہے جسے وہ شریک بناتے ہیں)

اور مذکورہ بالا آیات کی تفسیر میں ابن عباس  رضی اللہ عنہما   فرماتے ہیں :

جب آدم  علیہ الصلاۃ السلام نے انہیں (حواء) کو ڈھانک کیا،  تو انہیں حمل ٹھہر گیا۔ پس ابلیس ان دونوں کے پاس آیا اور کہنے لگا:  میں وہی ہوں جس نے تمہیں جنت سے نکالا۔ تم دونوں میری بات مانو ورنہ میں ضرور اس (ہونے والے بچے) کے سر پر بارہ سینگا کے دو سینگ بنا دوں گا جن کی وجہ سے یہ بچہ تمہارا پیٹ چیر کر نکلے گا۔ میں یہ ایسا ضرور کر دوں گا  کہہ کہ کر انہیں خوب ڈرایا دھمکایا اور کہا تم اس بچے کا نام عبدالحارث رکھنا۔ لیکن ان دونوں نے اس کی بات نہ مانی  تو بچہ مردہ پیدا ہوا۔

پھر وہ دوبارہ حاملہ ہوئیں تو شیطان  پھر دونوں کے پاس آیا اور پھر دونوں کے سامنے وہی بات  کہی ۔ اس دفعہ  بچے کی محبت نے انہیں مجبور کردیا تو انہوں نے آخر کار اس کا نام عبد الحارث  رکھ دیا۔  اور اللہ تعالی کے اس فرمان: ﴿جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا﴾   (تو انہوں نے اس عطاء میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا دیا) سے یہی مراد ہے۔ اسےابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے([1])۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

یعنی آدم و حواء علیہما الصلاۃ والسلام  کو خوف ہوا  کہ کہیں وہ حیوان  یا جن یا اس کے علاوہ کوئی مخلوق نہ بن جائے۔

اس قسم کا معنی الحسن  نے بھی بیان کیا: لیکن صحیح بات یہ ہے کہ الحسن رحمہ اللہ نے تو یہ فرمایا ہے کہ:

’’بے شک اس آیت سے مراد آدم وحواء علیہما الصلاۃ والسلام  کے علاوہ کوئی ہيں، بلکہ اس سے مراد بنی آدم میں سے مشرکین ہیں۔

  جیسا کہ اس بات کو ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں بیان فرمایا ہے۔ اور فرمایا:

’’جہاں تک ہماری بات ہے ، تو ہم اس بارے میں امام حسن بصری رحمہ اللہ کے ہی مذہب پر ہیں، اور یہ کہ یقیناً اس سیاق کے ساتھ اس سے مراد  آدم و حواء علیہما الصلاۃ والسلام  مراد نہیں ہیں، بلکہ اس سے بس ان کی اولاد میں سے مشرکین مراد ہیں([2])۔

دراصل یہ قصہ  مختلف وجوہات کی بنا پر باطل ہے:

پہلی وجہ:   بلاشبہ اس بارے میں کوئی صحیح خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہيں ہے، حالانکہ یہ ایسی خبر میں سے ہے جسے وحی کے علاوہ کسی چیز سے نہيں لیا جاسکتا۔اور امام ابن حزم رحمہ اللہ  اس قصے سے متعلق فرماچکے ہیں کہ:

’’ بلاشبہ یہ روایت خرافات، جھوٹی اور من گھڑت ہے۔

دوسری وجہ: اگر واقعی یہ قصہ آدم و حواء علیہما الصلاۃ والسلام  کے متعلق ہوتا  تو پھر ان کا حال دو میں سے ایک ضرور ماننا ہوگا: یا تو انہوں نے اس شرک سے توبہ کرلی تھی یا پھر اسی پر ان کی موت واقع ہوئی تھی۔ اگر ہم یہ کہیں کہ: اسی پر ان کی موت واقع ہوئی تھی ، پھر تو یہ بعض زندیقوں کے قول سے بھی بڑی بات ہوگی کہ وہ کہتے ہیں:

إذا ما ذكرنا آدما وفعاله              وتزويجه لابنيه بنتيه بالخنا

علمنا بأن الخلق من نسل فاجر      وجميع الخلق من عنصر الزنا

جو کوئی اس بات کا قائل ہے کہ انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام میں سے کسی کی موت شرک پر بھی ہوسکتی ہے تو اس نے عظیم ترین جھوٹ باندھا ہے۔ اور اگر کہیں کہ ان دونوں نے شرک سے توبہ کرلی تھی  تو پھر اللہ تعالی کی حکمت، عدل  و رحمت کے یہ لائق شان نہیں کہ  ان کی غلطی کا تو ذکر فرمائے لیکن اس سےتوبہ کا نہيں۔ لہذا یہ غایت درجے محال بات ہے کہ اللہ تعالی آدم وحواء علیہما الصلاۃ والسلام   کی وہ غلطی ذکر فرمائے جس سے وہ تائب ہوچکے ہيں، لیکن ا  ن دونوں کی توبہ ذکر نہ فرمائے۔ جبکہ اللہ تعالی جب اپنے انبیاء و رسل علیہم الصلاۃ والسلام میں سے کسی کی کوئی غلطی ذکر فرماتا بھی ہے تو ان کی اس سے توبہ کا بھی ذکر فرمادیتا ہے جیسا کہ خود آدم علیہ الصلاۃ السلام کے قصے  میں جب انہوں نے اور ان کی زوجہ نے اس ممنوعہ پیڑ میں سے کھالیا تھا ، پھر وہ اس سے توبہ کرچکے تھے۔

تیسری وجہ: بے شک انبیاء  کرام علیہم الصلاۃ والسلام  شرک سے پاک و معصوم ہیں، اس پر علماء کرام کا اتفاق ہے۔

چوتھی وجہ:  حدیث شفاعت میں یہ بات ثابت ہے  کے جب لوگ  (میدان محشر میں ) آدم علیہ الصلاۃ السلام کے پاس  شفاعت طلب کرنے آئیں گے تو وہ اپنا ممنوعہ پیڑ کے کھالینے کا عذر بیان کرکے معذرت چاہیں گے  جو کہ معصیت تھی۔ اگر ان سے شرک واقع ہوا ہوتا  تو وہ اس  کے بجائے اسے بطور عذر پیش کرنا زیادہ قوی، اولیٰ اور لائق تھا۔

پانچویں وجہ:  اس قصے میں ہے کہ شیطان ان کے پاس آیا اور کہا:  میں ہی تمہارا وہ دشمن ہوں جس نے تمہیں جنت سے نکلوایا حالانکہ ایسی بات کوئی ایسا شخص کیسے کرسکتا ہے جسے بہکانا مقصود ہو، بلکہ وہ تو ایسی باتیں کرتا ہے جو انہیں اس کی بات ماننے کے زیادہ قریب کرے۔ پس اگر وہ  یہ کہتا ہے کہ : میں ہی تمہارا وہ دشمن ہوں جس نے تمہیں جنت سے نکلوایا  تو پھر انہیں علم یقین ہوجانا چاہیے تھا  کہ بے شک یہ ان دونوں کا دشمن ہے، اور کسی بھی صورت وہ اس کی بات ماننے کو تیار نہ ہوتے۔

چھٹی وجہ:  اس قصے میں شیطان کے اس قول : میں اس بچے کے بارہ سینگا کے دو سینگ بنادوں گا  کے بارے میں یہی صورت ہوسکتی ہے کہ : یا تو وہ   اس کی تصدیق کریں  کہ واقعی اس بچے کے ساتھ وہ یہ کرسکتا ہے بایں صورت تو یہ ربوبیت میں شرک ہوا، کیونکہ بے شک اس بات پر اللہ تعالی کے سوا کوئی قادر نہیں۔ بصورت دیگر انہوں نے اس کی تصدیق نہیں کی ہوگی تو پھر یہ ناممکن ہے کہ وہ اس کا یہ قول قبول کرتے جبکہ وہ اچھی طرح سے جانتے ہيں کہ یہ ایسا کر ہی نہيں سکتا!

ساتویں وجہ: آیت کے آخر میں اللہ تعالی کا فرمان:

﴿فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ﴾

(پس اللہ تعالی بہت بلند ہے اس سے جسے وہ اس کا شریک بناتے ہیں)

میں جمع کی ضمیر ہے، اگر اس سے مراد آدم وحواء علیہما الصلاۃ والسلام  ہوتے تو کہا جاتا : عما یشرکان۔

چناچہ یہ وجوہات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہيں کہ یہ قصہ اپنی بنیاد سے ہی باطل ہے، اور بے شک جائز نہیں کہ آدم و حواء علیہما الصلاۃ والسلام  کے تعلق سے یہ اعتقاد رکھا جائے  کہ ان سے کسی بھی حال میں شرک سرزد ہوا تھا۔ اور اہل علم کا اتفاق ہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام شرک سے پاک اور بری ہیں۔ اس وجہ سے اس آیت کی تفسیر وہی ہوگی جو ہم نے پہلے ذکر کی کہ یہ  ان بنی آدم کی طرف لوٹتی ہے    جو حقیقی طور پر شرک کرتے ہیں، کیونکہ ان میں سے کچھ مشرک ہیں اور کچھ توحید پرست ہیں۔

 


[1] أخرجه إبن أبي حاتم كما  فى تفسير إبن كثير 2/275، و سعيد بن منصور 2/1387.

 

[2] حوالہ پہلے گزر چکا ہے۔ 

 

August 9, 2018 | الشيخ محمد بن صالح العثيمين, عقیدہ ومنہج | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com